http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 27 May, 2006, 09:23 GMT 14:23 PST

عمر فاروق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام حیدر آباد دکن

خوشی کے ساتھ ساتھ تکلیفیں بھی

صاحبو! اس ہفتے کی ڈائری کا آغاز ایک اچھی خبر سے۔ جنوب مغربی مونسون اپنےمقررّہ وقت سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ہی ہندوستان کے انتہائی جنوبی سرے یعنی کیرالا کے ساحل سے ٹکراگیا ہے اور کیرالہ کے کئی ضلعوں میں جمعہ کے دن سے ہی بارش شروع ہوگئی ہے۔

اب بارش کے پیامبر مونسون کے گھنے بادلوں کی اگلی منزل ملک کا شمال مشرقی علاقہ ہوگا۔ کیرالا سے یہ مونسون کرناٹک اور پھر یکم جون تک آندھرا پردیش تک پہنچ جائے گا۔ حالانکہ عموماً کیرالہ میں داخل ہونے کے ایک ہفتے بعد ہی مونسون آندھرا پردیش پہنچتا ہے لیکن اب کی بار مونسون بارش سے آندھرا پردیش کے موسم کا رنگ پہلے ہی تبدیل ہوگیا ہے۔ مئی کا آخری ہفتہ جو شدید ترین گرمی کے لیئے مشہور ہے اب کی بار انتہائی خوشگوار ثابت ہوا ہے۔ لیکن حیدرآباد میں عوام کی مشکلات برابر جاری ہیں۔ صرف ان کا نام تبدیل ہوگیا ہے۔

لوگ پہلے گرمی سے پریشان تھے اور اب بارش کے اس پانی سے پریشان ہیں جس نے حیدرآباد شہر کی سڑکوں اور چوراہوں کو جھیلوں میں تبدیل کردیا۔ حالانکہ ہر برس موسم برسات سے عین قبل بلدی حکام اس بات کا بڑا شور مچاتے ہیں کہ اب کی بار انہوں نے بارش کے پانی کے نکاس کی پوری تیاری کرلی ہے، زیر زمین نالوں کو صاف کردیا گیا ہے اور کہیں پانی جمع نہیں ہوگا لیکن اس ہفتے پہلی بارش نے ہی حکام کے ان دعووں کی قلعی اتار دی ہے۔ صرف دو گھنٹے کی بارش سے شہر کے کئی حصے زیر آب آگئے۔ اہم چوراہوں پر کئی فٹ پانی جمع ہوگیا اور سڑکوں پر کئی کِلومیٹر تک ٹریفک جام نے عام زندگی درہم برہم کردی۔ اب اگر موسم برسات کی شروعات کا عالم یہ ہے تو بعد میں کیا ہوگا۔

ادھر حالانکہ محکمہ موسمیات نے پیش قیاسی کی ہے کہ گزشتہ برس کی طرح اب کی بار بھی مونسون معمول کے مطابق ہوگا اور بارش کی سطح نارمل ہوگی لیکن کچھ حلقے اس خدشہ کا اظہار کررہے ہیں کہ مانسون کے قبل از وقت آنے کا مطلب کہیں یہ تو نہیں کہ وہ ختم بھی قبل از وقت ہوجائے گا۔

حیدرآباد کی اہم مسلم سیاسی جماعت مجلس اتحاد المسلمین نے واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور پولیس کمشنر اے کے موہنتی کے تبادلے کا مطالبہ کیا۔ حالات کو قابو سے نکلتا دیکھ کر حکومت نے دونوں متاثرہ خاندانوں کو 5 ، 5 لاکھ روپے کے معاوضے اور ایک ایک سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کیا اور متعلقہ پولیس والوں کے خلاف دو نوجوانوں کی موت کا سبب بننے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ لیکن اس مسئلہ پر عوام اور حکومت کے درمیان کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔ ہیلمٹ کے قانون سے عوام کی ناراضگی کے مدنظرحکومت نے اس مسئلہ پر عوام سے رائے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جبکہ پولیس نے ہیلمٹ نہ پہننے والوں سے ایسا سلوک کیا ہے۔

گزشتہ مہینے ہی پولیس کی لاٹھی لگنے سے ایک موٹر سائیکل راں کی ایک آنکھ چلی گئی تھی۔ ادھر ریاست کے انسانی حقوق کمیشن نے ان واقعات پر پولیس کمشنر کو نوٹس جاری کی ہے اور حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ کمشنر کے خلاف کارروائی کرے۔

اب ریاستی حکومت عدالت سے درخواست کرنا چاہتی ہے کہ وہ ہیلمٹ کو لازمی قرار دینے کی بجائے اختیاری قرار دے۔ جسے جان عزیز ہے وہ پہنے اور جسے نہیں وہ نہ پہنے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عدالت کیا کہتی ہے۔

اب تمل ناڈو میں مسلمانوں کے لیئے ریزرویشن
تمل ناڈو کی نئی ڈی ایم کے حکومت نے اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل شروع کردی ہے اور اس نے اعلان کیا ہےکہ مسلمان اور عیسائی اقلیت کو تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن دینے کے لیئے جلد ہی قانون بنایا جائےگا۔ آندھرا پردیش کے بعد تمل ناڈو وہ دوسری ریاست ہے جہاں اس طرح کا قانون بنایا جائے گا۔ حالانکہ آندھرا پردیش میں مسلمانوں کو پانچ فیصد ریزرویشن دینے کے قانون کو ریاستی ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیدیا ہے اور اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں التوا میں پڑا ہوا ہے لیکن تمل ناڈو حکومت بھی اس سمت میں قانون بنانے پر غور کررہی ہے۔ ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ تمل ناڈو میں درج فہرست ذاتوں، قبائلیوں اور پسماندہ ذاتوں کو دیا گیا مکمل ریزرویشن 69 فیصد ہے جو کہ سپریم کورٹ کی لگائی ہوئی 50 فیصد کی حد سے بہت زیادہ ہے۔ لیکن تمل ناڈو کی ڈی ایم کے حکومت اس میں مزید اضافہ کرنا چاہتی ہے۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ آئی آئی یم اور آئی آئی ٹی جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پسماندہ ذاتوں کو 27 فیصد ریزرویشن دینے کا جو فیصلہ حکومت ہند نے کیا ہے اس کی مخالفت میں دلی اور دوسری شمالی ریاستوں میں اونچی ذات کے طلباء مظاہرے اور ہڑتال کررہے ہیں لیکن جنوبی ہند میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ تمل ناڈو میں سیاسی جماعتیں اس فیصلہ کو جلد سے جلد روبہ عمل لانے کا مطالبہ کررہی ہیں اور ریزرویشن کے مخالفین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ حیدرآباد میں کمزور طبقات کے طلباء نے ریزرویشن کے حق میں مظاہرے کیئے ہیں۔