http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 23 May, 2006, 08:41 GMT 13:41 PST

ریحانہ بستی والا
ممبئی

داڑھی منڈوا دو

ممبئی پولس فورس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر احسان الحق غازی شیخ کواعلی افسران نے داڑھی منڈوانے کا حکم دے دیا ہے اور ساتھ ہی انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ اگر وہ اس میں ناکام ہوتے ہیں تو انہیں سروس سے معطل کر دیا جائے گا۔

اس حکم کے ساتھ ہی ترپن سالہ شیخ کا بلڈ پریشر بڑھ گیا اور انہیں پولیس ہسپتال میں داخل کرنا پڑا ۔شیخ کا کہنا ہے کہ اس عمر میں وہ داڑھی منڈوانے کے بجائے ملازمت چھوڑنا پسند کریں گے ۔انہوں نے 1977 سے داڑھی بڑھانا شروع کی تھی اور اب انتیس سال بعد اچانک اس طرح کے حکم سے انہیں حیرت اور دکھ بھی ہے ۔

شیخ کے مطابق ’اس طویل عرصہ میں انہوں نے’ کئی پولیس سٹیشن میں کام کیا لیکن کبھی کسی پولیس سٹیشن میں اس طرح کا حکم نہیں دیا گیا۔‘

شیخ اس وقت دادر پولیس سٹیشن میں تعینات ہیں اور یہ پولیس سٹیشن ہندو اکثریت والا علاقہ میں واقع ہے۔

شیخ کےمطابق گزشتہ ماہ اپریل میں ڈپٹی پولیس کمشنر راجیش کمار نے انہیں داڑھی منڈوانے کا حکم دیا اور کہا کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی ۔

ڈپٹی پولیس کمشنر امیتابھ گپتا سے بی بی سی نے اس سلسلے میں بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پولیس کے سروس رولز میں ہے کہ ’ہندؤں اور مسلمانوں کو صرف چند دنوں کے لیئے داڑھی رکھنے کی اجازت دی جاتی ہے اور یہ بھی ان کے سینیئر افسران سے اجازت کے بعد ہندو اکثر شراون کے مہینے میں داڑھی بڑھاتے ہیں اور مسلمان حج کے مہینے میں اس کے بعد انہیں کلین شیو کرنا پڑتا ہے‘ ۔

سکھوں کو داڑھی رکھنے کی اجازت دینے کے بارے میں امیتابھ گپتا کا کہنا تھا کہ ان کا مذہبی معاملہ ہے ‘

ڈپٹی کمشنر آف پولیس راجیش کمار کا کہنا تھا کہ ’وہ کسی کے مذہب کے خلاف نہیں ہیں اور انہوں نے جو کچھ کیا قانون کے دائرے میں رہ کر کیا ‘۔

جوائنٹ پولس کمشنر (انتظامیہ ) سبھاش آؤٹے نے بتایا کہ سن دو ہزار دو میں ایک حکم جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق پولیس کے کسی بھی عملہ کو داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں ہے چاہے وہ مسلمان ہو یا ہندو ، اور اگر وہ رکھنا چاہتا ہے تو صرف ان مخصوص دنوں میں جب اس کے عقائد کے مطابق وہ بال صاف نہیں کر سکتا ‘ ۔

اس کے برخلاف ڈی سے پی امیتابھ گپتا کا کہنا تھا کہ یہ سروس رول سن دو ہزار کا نہیں بلکہ شروع سے ہی ہے ۔

پریشان اور خوفزدہ شیخ نے جوائنٹ پولیس کمشنر آؤٹے سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کا تبادلہ کسی مسلم اکثریتی علاقہ کے پولیس سٹیشن میں کر دیں جہاں کوئی بھی ان کی داڑھی کی مخالفت نہ کرے ۔