Tuesday, 23 May, 2006, 05:19 GMT 10:19 PST
سید علی گیلانی
چیئرمین، حریت کانفرنس
سن 1947 سے 2006 تک کل ملا کر 130 بار بات چیت کے دور ہو چکے ہیں مگر مسئلہ کشمیر حل کرنےکے لیۓ ابھی تک کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آرہی ہے۔ جنوری 2004 سے پاکستان کی موجودہ حکومت بھی بھارت سے بات چیت کررہی ہے۔ مگر مسئلہ کشمیر کے بارے میں ایک قدم بھی آگے بڑھا نہیں جاسکا ہے۔
حریت کانفرنس کے ایک دھڑے نے بھی سابقہ حکومت اور موجودہ حکومت کے ساتھ تین دور کیے ہیں۔ حکومتِ پاکستان بھی، اور نام و نہاد ماڈریٹ لیڈر بھی خود اعتراف کرتے ہیں، اصل مسئلہ جوں کا توں ہے، کوئی حل سامنے نہیں لایا جاسکا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بھارت کی ضد، ہٹ دھرمی اور غیرحقیقت پسندانہ پالیسی اور طرز عمل ہے۔
بھارت کی حکومت ایک طرف بات چیت، اعتماد سازی اور امن امن کا دعویٰ کررہی ہے مگر دوسری طرف سرحدیں (نہ) بدلنے اور کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دے رہی ہے، فورسز کے لیئے پختہ بنکر تعمیر کروائے جارہے ہیں، لاکھوں کنال زمین پر فوجی قبضہ کے بعد بھی اونتی پورہ میں سات ہزار کنال، بھدرواہ میں پانچ ہزار کنال، ایگری کلچر یونیورسٹی کے ساتھ منسلک ہزاروں کنال رقبہ کو فوجی تصرف میں دیا جا رہا ہے، صحت افزا مقامات کو نوے برس کی لیز پر حاصل کرکے استمعال کی پالیسی اپنائی جارہی ہے، فرضی جھڑپوں کے نام سے نہتے لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔
اعتماد سازی کے تسلسل میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کچھ اقدامات کیے گۓ ہیں جن سے دو ملکوں کے درمیان تعلقات اور رشتے بندھ گئے ہیں مگر جہاں تک جموں و کشمیر کے مسئلے کا تعلق ہے اس کے مستقل اور پائیدار حل کی طرف ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا جا سکا ہے اور نہ ہی قابض فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کے وسیع ترین پامالیوں پر روک لگائی جا سکی ہے۔
جموں و کشمیر کے مظلوم عوام سب سے زیادہ امن کے خواہش مند اور ضرورت مند ہیں۔ مگر 58 برس سے رستا ہوا ناسور، مسئلہ کشمیر جب تک 13 ملین لوگوں کے استصواب رائے عامہ کے ذریعہ رائے معلوم کیے بغیر کہ وہ اپنا مستقبل بھارت یا پاکستان کے ساتھ وابستہ کرنا چاہتے ہیں، کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا ہے۔
جموں و کشمیر کی اخلاقی ساکھ اور انسانی اور دینی شناخت کو نیست و نابود کرنے کے لیۓ فحاشی، عریانی، بدکاری، شراب خوری اور منشیات کی وباء کو گھناؤنی سازش اور منصوبہ بندی کے ساتھ پھیلایا جارہا ہے۔ جنسی سکینڈل جیسی شرم ناک اور اخلاق باختہ سازشیں جن میں فورسز کے علاوہ انتظامیہ اور اثر و رسوخ والے اوباش افراد بھی وابستہ ہیں، پوری مظلوم قوم کے لیے دل ہلا دینے والے واقعات ہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ جد وجہد آزادی سے توجہ ہٹائی جائے اور پوری قوم کو اخلاقی طور پر دیوالیہ بنایا جائے تا کہ وہ فوجی قبضہ کے خلاف جرات، ہمت، حوصلہ اور اخلاقی برتری کے ناقابل شکست ہتھیار سے محروم ہو جائے۔
ایل او سی کو سافٹ اور آمدورفت کے لئے کھول دیا جائے، بس سروس کے بعد اب ٹرک بھی چلائے جائیں گے اور اس طرح 58 برس کی جد و جہد اور عظیم و بےمثال قربانیوں کو فراموش کر کے متنازعہ خطہ کی خونی لکیر کو مستقل سرحد کی حیثیت سے تسلیم کروایا جائے گا۔
تحریک حریت جموں و کشمیر اور کل جماعتی کانفرنس کا آئین کا وفاداری کا مظاہرہ کرنے والا فورم اس ناقابل قبول حل اور نسل در نسل غلامی کی لعنت کو جبر اور سیاسی ریشہ دوانیوں کے سہارے مسلط کیے جانے کی لعنت کو کسی بھی حال میں قبول کرنےکے مشورہ نہیں دے گا اور ہر قیمت پر شہداء کے مقدس خون کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتا رہے گا- کم واٹ مے (Come what may)
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
سید علی گیلانی علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد حریت کانفرنس کے چیئرمین ہیں اور انہیں مبصرین سخت موقف کا حامی سمجھتے ہیں۔ ان کی یہ خصوصی تحریر چوبیس-پچیس مئی کو سرینگر میں ہونے والی گول میز کانفرنس کی مناسبت سے شائع کی جارہی ہے۔ اس سیریز کے تحت دیگر کشمیری رہنماؤں کی تحریریں بھی شائع کی جارہی ہیں۔