Monday, 22 May, 2006, 06:40 GMT 11:40 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جے کے ایل ایف کے نور محمد کلوال چالیس برس کے ہیں۔ پہلی بار 1989 میں شدت پسند سرگرمیوں کے الزام میں جیل گئے۔ جب ان کی تنظیم نے اس وقت کے وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی روییعہ سعید کو اغواء کیا تو روبیعہ کے بدلے کلوال کو بھی رہائی ملی۔ کلوال کو دوبارہ 1991 میں گرفتار کیا گیا۔ اس بار وہ بارہ برس سے زیادہ عرصے تک قید میں رہے۔
خواب پورے ہوں گے |
![]() | |
| بیٹہ کراٹے کے والدین بیٹے کے منتظر |
چھوٹے بھائی محمد شفیع ڈار کا کہنا ہے کہ ’الزام تو کئی لگائے گئے تھے لیکن ثابت نہیں ہوئے۔ اس کو خواہ مخواہ بند کر کے رکھا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی دو تین بار رہائی کے احکامات دیے لیکن یہاں عدالت کی وقعت نہیں ہے۔‘
نور محمد کلوال کہتے ہیں کہ بیشتر معاملات میں عدالت میں الزامات ثابت نہیں ہو پاتے لیکن کسی نہ کسی بہانے سے قید کی مدت بڑھتی جاتی ہے۔ ’میرے ایک ساتھی بلال صدیقی کو دلی میں گرفتار کیا گیا ۔انہیں وہاں ایک عدالت نے دس برس کی قید کی سزا سنائی جب سزا پوری ہو گئی تو پھر دو سال کی سزا سنائی دی گئی ۔‘
اس میں شک نہیں کہ قیدیوں میں کئی سخت گیر شدت پسند بھی شامل ہیں لیکن کشمیر میں علیحدگی پسندی کی تحریک میں بڑی تعداد میں سیاسی رہنما اور کارکن بھی اپنے خیالات اور نظریات کی وجہ سے قید کیئے گئے ہیں۔
ان میں شاید سب سے منفرد سیاسی قیدی ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کےشبیر احمد شاہ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے تقریباً 23 برس جیل میں گزارے ہیں۔
اپنے نظریات اور خیالات کے سبب انہیں کم از کم دوبار سات برس سے زیادہ جیل میں گزارنے پڑے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’قید میں رہنا سب سے برا ہے کیونکہ آزادی چھن جاتی ہے ۔آپ محسوس کرتے ہیں کہ آ پ غلام ہیں۔‘
اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسیری میں گزارنے کے باوجود شبیر شاہ بہت انکساری سے کہتے ہیں کہ ’صرف شبیر شاہ نے قربانیاں نہیں دی ہیں ۔58 سالوں میں لاکھوں لوگ اسیر کیئے گئے ہیں ۔ بستیوں کی بستیاں ویران کر دی گئی ہیں۔‘
![]() | |
| کشمیری گزشتہ اٹھاون برسوں سے حق رائے دہی استعمال کرنے کے انتظار میں ہیں |
جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم کہتے ہیں کہ اکثر قیدیوں کی سزاوں کی مدت ختم ہوتے ہی ان کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نۓ مقدمات درج کر لیے جاتے ہیں اس لیے قیدیوں کی رہائی ممکن نہیں ہو پاتی ۔ ’قیدیوں کی بہت بری حالت ہے۔‘
شبیر شاہ کا کہنا ہے کہ ’ہمارا یہ خواب ہے کہ ہم سے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا کیا جائے گا۔ یہ اسیری، یہ مصائب، یہ قربانیا ں اسی سیاسی مقصد کے حصول کے لیے ہیں ۔ ہمیبں یقین ہے کہ ہمارا خواب پورا ہوگا۔‘