http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 22 May, 2006, 12:52 GMT 17:52 PST

ریاض مسرور
سرینگر

علیحدگی میں بات کریں: میر واعظ

انڈیا کے زیر انتظام جموں کشمیر میں علحیدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس نے آئندہ بدھ کو شروع ہونے والی گول میز کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

کشمیر میں دھماکے کی تصاویر

لیکن ریاست کے وزیر اعلی غلام نبی آزاد نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’ کانفرنس مقررہ وقت پر پروگرام کے مطابق منعقد ہو گی اور اس کی صدارت وزیر اعظم منموہن سنگھ کریں گے۔‘

حریت کانفرنس کے چیر پرسن میر واعظ عمر فاروق نے حریت قائدین کی ایک میٹنگ کے فورا بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ کانفرنس میں عدم شرکت کا فیصلہ سبھی اکائیوں نے متفقہ طور پر کیا ہے۔

گول میز کانفرنس
 حریت کا انکار بلا جواز ہے۔ کانفرنس اپنے وقت پر ہوگی۔
 
غلام نبی

انکار کا جوزا بیان کرتے ہوئے میر وا‏عظ نے بتایا کہ ’سیاسی منافقوں اور اخوانیوں (سرکاری بندوق بردار) کے ہجوم میں مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔‘

ریاست کے وزیراعلی غلام نبی آزاد نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حریت والوں کے پاس انکار کا کوئی ٹھوس جواز نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری گول میز کانفرنس کے بارے میں حریت کانفرنس کو بہت پہلے سے علم تھا اور اس میں شرکاء کی تعداد کو پچاس فیصد گھٹا دیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وزير اعظم مقررہ شیڈیول کے مطابق بدھ کے روز سرینگر پہنچ رہے ہیں اور تمام تیاریاں مکمل ہیں۔‘

میر واعظ دوسرے نمایاں علحیدگی پسند رہنما ہیں جنہوں نے گول میز کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ اس سے قبل سید علی شاہ گیلانی نے نئی دلی کے دعوت نامہ کو مسترد کر دیا تھا ۔

گیلانی حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے چیر مین ہیں۔

حریت کا انکار
 حریت کانفرنس وزیر اعظم سے علحیدہ میٹنگ کے لیئے تیار ہے
 
میر واعظ

شبیر شاہ اور یاسین ملک جیسے دیگر رہنماؤں نے پہلے ہی کانفرنس میں شرکت کو نا ممکن بتایا ہے۔

حیرت لیڈروں سمیت سبھی علحیدگی پسندوں کا خیال ہے کہ انڈین آئين اور اقتدار اعلی کو تسلیم کرنے والے کشمیری لیڈروں کے ساتھ بات چیت بے معنی ہے۔ کیوں کہ ان کے مطابق مذاکراتی سطح پر ’ کچھ لے اور کچھ دے‘ کا فیصلہ ان لوگوں کو کرنا ہے جو جموں کشمیر میں انڈيا کے اقتدار کی مزاحمت کر رہے ہیں۔