Sunday, 21 May, 2006, 19:49 GMT 00:49 PST
وزیراعظم انڈیا من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ ہمالیائی وادی کے مسئلے کا حل صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے اور سرینگر ریلی پر حملے سے جاری امن کی کوششوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
بعد میں وزیراعظم منموہن سنگھ کے ایک ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم بدھ کو پروگرام کے مطابق سرینگر جائیں گے۔
واضح رہے کہ سرینگر میں 24 اور 25 مئی کو ایک گول میز کانفرنس ہو رہی ہے جسے مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں اہم پیش رفت خیال کیا جا رہا ہے۔
اس کانفرنس پر شدت پسندوں اور علیحدگی پسندوں نے مختلف ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ چار عسکریت پسند تنظیموں الناصرین، فرزندان ملت، سیو کشمیر موومنٹ اور القارفین نے مقامی اخبارات کے نام اپنے بیانات میں کہا تھا کہ ’ان کے عسکریت پسندگول میز کانفرنس کو ’سبو تاژ‘ کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں۔
انڈین حزبِ اختلاف کے اتحاد بی جے پی کے رہنما ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ ’سرینگر حملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی ختم نہیں ہوئی ہے اور اس میں ایک بار پھر شدت پیدا ہو رہی ہے۔
چندی گڑھ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق بھارتی وزیر نے کہا ہے کہ انڈیا کو بقول ان کے ’مسلسل دہشت گردی‘ سے نمٹنے کے لیے مضبوط پالیسی وضع کرنی چاہیے‘۔