http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 21 May, 2006, 19:49 GMT 00:49 PST

’امن کوششوں پر اثر نہیں پڑے گا‘

وزیراعظم انڈیا من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ ہمالیائی وادی کے مسئلے کا حل صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے اور سرینگر ریلی پر حملے سے جاری امن کی کوششوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

عینی شاہد کیا بتاتے ہیں

مذاکرات آئین نے ماننے والوں سے کیے جائیں

سرینگر کے شیر کشمیر پارک میں سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کی پندرہویں برسی کے سلسلہ میں منققد کی گئی ریلی پر پولیس وردی میں ملبوس شدت پسندوں پر حملے کے پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات سے پائیدار امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔

بعد میں وزیراعظم منموہن سنگھ کے ایک ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم بدھ کو پروگرام کے مطابق سرینگر جائیں گے۔

واضح رہے کہ سرینگر میں 24 اور 25 مئی کو ایک گول میز کانفرنس ہو رہی ہے جسے مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں اہم پیش رفت خیال کیا جا رہا ہے۔

اس کانفرنس پر شدت پسندوں اور علیحدگی پسندوں نے مختلف ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ چار عسکریت پسند تنظیموں الناصرین، فرزندان ملت، سیو کشمیر موومنٹ اور القارفین نے مقامی اخبارات کے نام اپنے بیانات میں کہا تھا کہ ’ان کے عسکریت پسندگول میز کانفرنس کو ’سبو تاژ‘ کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں۔

انڈین حزبِ اختلاف کے اتحاد بی جے پی کے رہنما ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ ’سرینگر حملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی ختم نہیں ہوئی ہے اور اس میں ایک بار پھر شدت پیدا ہو رہی ہے۔

چندی گڑھ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق بھارتی وزیر نے کہا ہے کہ انڈیا کو بقول ان کے ’مسلسل دہشت گردی‘ سے نمٹنے کے لیے مضبوط پالیسی وضع کرنی چاہیے‘۔