Sunday, 21 May, 2006, 07:08 GMT 12:08 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
ملا کی سیاست
ہندوستان میں اکثر مذہبی رہنما اپنے مذہبی کاموں اور اعمال سے نہیں بلکہ اپنی سیاسی سرگرمیوں سے جانے جاتے ہیں۔ ملک، بالخصوص شمالی ہندوستان، میں جس طرح کی سیاست رہی ہے اس میں مولویوں اور سادھوؤں کے لیئے خاص گنجائش رہی ہے۔
آسام کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بدرالدین اجمل نے مسلمانوں کی ایک نئی جماعت بنائی اور کامیابی بھی حاصل کی اور اب اترپردیش میں انتخابات قریب ہیں۔ دلی کی جامع مسجد کے امام اور شیعہ رہنما مولانا کلب جواد سے لے کر کئی مذہبی تنظیموں اور مزاروں کے متولیوں نے’ پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ‘ نام کا ایک سیاسی محاذ تشکیل دیا ہے۔ یہ محاذ آئندہ اسمبلی انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑا کرے گا۔ ان سیاسی مولویوں کا کہنا ہے کہ اگر ریاست میں چھ سات فی صد آبادی کے ساتھ یا دو اقتدار چل سکتے ہیں تو پھرتئیس فی صد مسلمان کیوں پیچھے رہیں؟
اقتدار بری بلا ہے
سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی بہت کم عمری کے زمانے سے سیاست میں ہیں۔ ظاہر ہے وہ ہمیشہ حزب اختلاف میں رہے۔ تقریبا پچاس برس تک اپوزیشن میں رہتے رہتے جب وہ وزیر اعظم بنے تو وہ اکثر بھول جاتے تھے کہ اب وہ وزیراعظم ہیں۔ نتیجتاً وہ حزب اختلاف کے رہنما کے طور پر تقریر کرنے لگتے۔
گزشتہ دنوں کافی عرصہ بعد وہ پارلیمنٹ میں بولے۔ مسٹر واجپئی اپنے مخصوص انداز میں بولے لیکن وہ بحث میں حصہ لیتے ہوئے اس بار یہ بھول گئے کہ وہ وزیر اعظم نہیں ہیں بلکہ اپوزیشن کے رکن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ کبھی ہم بھی اپوزیشن میں تھے۔ آج آپ اپوزیشن میں ہیں۔‘ یہی نہیں، ان کی تقریر کا لب و لہجہ اورانداز بھی وہی تھا جیسے وہ بحیثیت وزیر اعظم تقریر کر رہے ہوں۔
اظہرالدین کی تڑپ
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہرالدین پر میـچ فکسنگ کے جرم میں تاحیات پابندی عائد ہے۔گزشتہ دنوں اظہر نے کرکٹ بورڈ کے صدر شردپوار سے ملاقات کی اور اطلاعات ہیں کہ انھوں نے یہ درخواست کی ان پر عائد پابندی ہٹائی جائیں۔ اظہرالدین کا کہنا ہے کہ جب باقی سبھی کھلاڑیوں کو معاف کر دیا گیا تو صرف تنہا انہی پر پابندی کیوں رہے۔
![]() | |
| اظہر کا کہنا تھا کہ تاحیات پابندی کے سبب زندگی چلانا مشکل ہوگیا ہے۔ |
مونسون کی آمد
محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ اس بار مونسون وقت سے دو دن پہلے یعنی تیس مئی کو ملک میں داخل ہوگا، تاہم دلی میں مونسون اپنے مقررہ وقت یعنی انتیس جون کو ہی پہنچےگا۔
مونسون سب سے پہلے کیرالہ پہنچتا ہے۔ کیرالہ سے وہ مغربی ساحل سے ہوتے ہوئے شمال کی طرف بڑھتا ہے اورپندرہ جولائی تک یہ پورے ملک میں پھیل جاتا ہے۔محکمہ موسمیات نے اس بار معمول سے کم بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں ایک ہنگامی اسکیم بھی تیار کی ہے۔ ملک کے محکمہ موسمیات کی پیش گوئیاں عموما غلط ثابت ہوتی ہے۔ شاید اسی لیئےگزشتہ برسوں سے اس کے لیئے غیر ملکی طریقہ کار استمعال کیا جانے لگا ہے۔
جنگی تیاریاں
وفائی تحقیقاتی ادارے ڈی آر آو کے سربراہ نے بتایا ہے کہ ساڑھے تین سے چار ہزار کلومیٹر تک وار کرنے والا ہندوستان کا بیلسٹک میزائل اگنی تھرڈ تکنیکی اعتبار سے پوری طرح تیار ہے۔
جوہری بم گرانے کی صلاحیت والے اس میزائل کے تین تجربے کیے جانے ہیں جن میں ایک تجربہ زیادہ سے زیادہ فاصلے پر نشانے پر وار کرنے کا بھی ہے۔ تجربے کا فیصلہ سیاسی سطح پر کیا جانا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب ہندوستان اور امریکہ جوہری توانائی کے ایک معاہدے کی منظوری کے لیۓ کوشاں ہیں اس طرح کا میزائل تجربہ امریکہ میں معاہدے کے مخالفین کو تقویت دے سکتا ہے۔ حکومت اس مرحلے پر اگنی کے تجربے کے بارے میں کافی محتاط ہے اور ابھی کوئی فیصلہ نہیں کر رہی ہے۔