Sunday, 21 May, 2006, 10:49 GMT 15:49 PST
شہاب فضل
لکھنو
تحریک آزادی کے جنگجو سبھاش چندر بوس کی گمشدگی کی وجوہات کا پتہ لگانے والے مکھرجی کمیشن نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا کہ نیتا جی کی موت فضائی حادثے میں نہیں ہوئی تھی۔
شمالی ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے ایک عمر رسیدہ شخص نے دعویٰ کیاہے کہ نیتا جی کی موت کسی طیارے کے حادثے میں نہیں بلکہ فیض آباد ضلع میں اور فطری انداز میں ہوئی۔
نظام الدین، جن کی عمر اب ایک سو دو سال ہو چکی ہے، کہتے ہیں کہ وہ نیتا جی کے ڈرائیور اور باڈی گارڈ رہ چکے ہیں۔ ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا ہے 1945میں تائیوان میں جس طیارہ حادثہ میں سبھاش چندر بوس کی موت کی بات کہی جاتی ہے وہ غلط ہے کیونکہ آخری وقت میں انہوں نے اس طیارہ میں سفر کر نے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔
سبھاش بوس کے ڈرائیور کا دعویٰ |
نظام الدین نے مزید بتایا کہ تائیوان میں جس طیارہ کے حادثہ سے دو چار ہونے کی بات کی جاتی ہے اس میں آزاد ہند فوج کے کچھ فوجی ضرور سوار تھے۔
نظام الدین کاکہنا ہے کہ 1971 میں بنارس میں ان کی ملاقات نیتا جی کے ایک بہت ہی قریبی ساتھی سے ہوئی تھی جس نے بتایا کہ ’بابو صاحب‘ بھیس بدل کر فیض آباد میں رہ رہے ہیں۔
نظام الدین کے مطابق اس انکشاف پر انہیں کوئی تعجب نہیں ہوا کیونکہ حکام کو دھوکہ دینے کے لیے نیتا جی بھیس بدلنے کے ماہر تھے۔
قابل ذکر ہے کہ سبھاش چندر بوس کی لاش نہ ملنے کے سبب ان کی موت کے بارے میں کئی طرح کی باتیں سامنے آچکی ہیں۔
مکھرجی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کی موت ہو چکی ہے لیکن کس طرح ہوئی اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں مل سکا ہے۔