Saturday, 20 May, 2006, 14:47 GMT 19:47 PST
گوہر نذیر شاہ
سری نگر
ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی مخلوط حکومت میں شامل دو بڑی حلیف جماعتیں پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ اور کانگریس کے درمیان تعلقات روز بروز کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار حکمران اتحاد کا مستقبل تاریک قرار دیتے ہیں۔
کانگریس اور پی ڈی پی کے باہمی تعلقات اس وقت اور مزید خراب ہوگئے جب جنسی سکینڈل کے تعلق سے دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر پردہ پوشی کرنے کے الزامات عائد کیے۔ سکینڈل کی اہم گواہ یاسمینہ کے اس بیان کے بعد پی ڈی پی اور کانگریس میں مزید ٹھن گئی ہے کہ جنسی سکینڈل میں کئی سرکردہ سیاسی لیڈروں، وزیروں، پولیس و نیم فوجی دستے کے اہلکاروں اور تاجروں کا ہاتھ ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر پیرزادہ محمد سعید نے درمیانی مدت کے انتخابات کے بارے میں محبوبہ مفتی کے بیانات کو بوکھلاہٹ قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی کو چیلنج کیا ہے کہ ’اگر پی ڈی پی میں دم ہے تو حمایت واپس لے کر ثابت کرے‘۔
کس کا نقصان زیادہ ہو گا؟ |
سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگرمخلوط حکومت ختم ہوتی ہے اور وسطی مدت کے انتخابات ہوتے ہیں تواس صورت میں سب سے زیادہ نقصان پی ڈی پی ہی کو ہوگا۔
مشہور صحافی اور ’چٹان‘ کے ایڈیٹر طاہر محی الدین نے حکمران اتحاد کی کشیدگی کے بارے میں بی بی سی کو بتایاکہ ’ کانگریس اور پی ڈی پی کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بالکل واضح ہے اوراگر اتحاد ٹوٹ جاتا ہے تو کانگریس کو ہی فائدہ ہوگا۔ اتحاد میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے‘۔
طاہر محی الدین کے مطابق پی ڈی پی دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک کی قیادت محبوبہ مفتی کے ہاتھوں میں اور دوسرے کی سابق وزیراعلی مفتی محمد سعید کےہاتھوں میں ہے۔ ’محبوبہ مفتی چاہتی ہیں کہ پی ڈی پی مخلوط حکومت کو خیر باد کہے لیکن مفتی محمد سعید کو یہ خدشہ ہے کہ حکومت سے الگ ہو کر پی ڈی پی مزید نہ بکھر جائے‘۔
پی ڈی پی پہلے ہی اپنے ایک باغی لیڈر اور سابق وزیر سیاحت غلام حسن میر کی پارٹی مخالف سرگرمیوں سے پریشان ہے۔ پارٹی میں غلام حسن میر کی بنیادی رکنیت چند ہفتے قبل معطل کی گئی ہے۔
پی ڈی پی کے دیگر باغی لیڈروں میں غلام قادر اور دو ممبران اسمبلی سرفراز خان اور ظہور احمد میر کے نام قابل ذکر ہے۔
اگر پی ڈی پی حکمران اتحاد سے الگ ہوتی ہے تو سیاسی مبصرین کے رائے میں نیشنل کانفرنس اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنے کی کوشش کرے گی۔
کانگریس اور پی ڈي پی کے درمیان بحث وتکرار پر پی ڈی پی کے ترجمان سید بشارت بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ کانگریس سے ہمارا اتحاد کم سے کم نکات پر اتفاق کے پروگرام کا حصہ ہے۔ پی ڈی پی کا الگ پروگرام ہے اور کانگریس کا اپناالگ۔ پی ڈی پی لوگوں کے احساسات کی ترجمانی اور ان کے جذبات کو اجاگر کرنے سے کبھی پرہیز نہیں کرے گی‘۔