Saturday, 20 May, 2006, 16:29 GMT 21:29 PST
شہاب فضل
لکھنو
ایودھیا میں بابری مسجد پر حملے کی سازش میں گرفتار کیے گۓ ملزمان کو پیروی کے لیے وکیل نہیں مل رہے ہیں اورجو مل رہے ہیں انہیں پیروی کرنے سے روکا جارہا ہے۔
پانچ جولائی 2005 کو مبینہ طور پر پانچ دہشت گردوں نے بابری مسجد کے مقام یا میک شفٹ یا عارضی مندر پرحملہ کیا تھا جس میں سکیورٹی دستوں سے تصادم میں سبھی حملہ آور مارے گۓ تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پانچوں حملہ آور سرحد پار سے آئے تھے اور انکا تعلق لشکر طیبہ سے تھا۔
پولیس نے حملے کی سازش کرنے کے الزام میں گزشتہ برس جولائی میں محمد نسیم، آصف اقبال، محمد شکیل اور محمد عزیز کوجموں سے اور سہارنپور سے ڈاکٹر عرفان کوگرفتارکیاتھا۔
گرفتاری کے بعد سے یہ سبھی ملزم فیض آباد سے 170 کلو میٹر دور الہ آباد کے نینی سینٹرل جیل میں قید ہیں۔ انہیں ہر پیشی پر فیض آباد کے سیشن جج کی عدالت میں لایا جاتا ہے لیکن چونکہ فیض آباد بارایسوسی ایشن نے ایک قرار داد کے تحت اپنے کسی بھی وکیل کو ان ملزمان کی پیروی کرنے سے منع کر رکھا ہے اس لیے ان کا کیس آج تک آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔
ایسوسی ایشن کے صدر پرکاش چندر پانڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شدت پسندوں کا ساتھ دینے والے ان ملزمان پر ملک سے بغاوت کا بھی الزام ہے اس لیے ہم نےفیصلہ کیا ہے کہ ملک سے بغاوت کرنے والے کے حق میں نہ ہم وکالت نامہ لگائیں گے اور نہ کسی کو ایسا کرنے دیں گے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم آگے بھی اس کی مخالفت کريں گے اور لکھنؤ میں وکلاء کے اجلاس میں بھی اس بات کا مطالبہ کریں گے‘۔
بار ایسوسی ایشن کے اس دباؤ کے سبب تین وکلاء ان ملزمان کے دفاع سےمعذوری ظاہر کر چکے ہیں اور گزشتہ پیشی پر تو ایک وکیل آر کے تیواری نے جب ملزمان کی پیروی کے لیے اپنا وکالت نامہ سیشن جج کو پیش کرنے کی کوشش کی تو انہیں دیگر وکلاء کے عتاب کا نشانہ بننا پڑا اور وہ مارکھاتے کھاتے بچے اور ان کی بار کونسل کی رکنیت ختم کر دی گئی ہے۔
اسٹیٹ لیگل سروس اتھارٹی لکھنؤ نے سیشن جج کے خط ملنے کی تصدیق کی ہے۔ اتھارٹی کے ڈپٹی سکریٹری جگدیش پرساد نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر کوئی شخص غریب ہے یاکسی اور وجہ سے وکیل نہیں کر سکتا تو اتھارٹی سرکاری خرچ پر اسے وکیل مہیا کرتی ہے۔ انھوں نے کہا ’انصاف کے ضابطوں کا تقاضا ہے کہ ہر کسی کو اپنے دفاع کا حق ملے۔ مذکورہ کیس مختلف نوعیت کا ہے۔ معاملہ جذباتی ہے، عوام کا دباؤ ہے اور وکیل کے تحفظ کا بھی معاملہ ہے۔ بہرحال ہمارے جج صاحبان کی کمیٹی مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کرکے جلد ہی کوئی فیصلہ کرے گی‘۔
ایودھیا حملہ کے معاملے میں سرکاری وکیل او پی سنہا کا کہنا ہے کہ ان ملزمان کی چارج شیٹ تیار ہے لیکن وکیل دفاع کے نہ ہونے کے سبب چارج شیٹ داخل نہیں ہو پا رہی ہے۔ اس کیس کی اگلی سماعت 26 مئی کو ہونی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مذکورہ کیس کے پانچوں ملزمان نے اپنا کیس کسی دیگر جگہ منتقل کرنے کی بھی درخواست سیشن عدالت سے کی ہے لیکن اس مسئلے پرانہیں ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سے رجوع کرنےکے لیے کہا گیا ہے۔