فیصل محمد علی
بھوپال
انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش میں ایڈز کی بیماری سے آگاہی کی مہم کے لیے کام کرنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سکولوں کے نو عمرطلباء میں جنسی تعلقات پیدا کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اس لیئے ان میں سیکس ایجوکیشن کے بارے میں دلچسپی پیدا ہورہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ طلباء میں یہ رجحان ایک اچھی خبر ہے اور وہ نصاب کی کتابوں میں سیکس ایجوکیشن (جنسی تعلیم) متعارف کرنے پرغور کررہے ہیں۔
شعبہ تعلیم اور ایڈز کے افسران نےایڈز کی مہلک بیماری کے متعلق بیداری پیدا کرنے لیئے سکولوں کے طلباء کے ساتھ سوال جواب کا ایک سیشن رکھا تھا۔
اس مہم کا اہتمام کرنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بات چیت میں سب سے دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ بہت سے طلباء سن بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی جنسی عمل کا تجربہ کر چکے ہیں اور سیکس کے متعلق بے جھجھک بات کرتے ہیں۔
ریاست میں ایڈز کنٹرول سوسائٹی کی ڈائریکٹر سلینہ سنگھ نے کہا کہ ان کے لیئے یہ معلومات اطمنان بخش ہیں اور اچھی بات یہ ہے ان میں سے بیشتر لڑکے اور لڑکیاں ایچ آئی وی یا ایڈز اور دیگر جنسی بیماریوں کے متعلق باخبر ہیں اور ان سے بچنے کے لیئے احتیاطی تداببیر بھی اپناتے ہیں۔
کم عمر طلباء کے لیئے اس مہم کا اہتمام عالمی ترقیاتی ادارے ڈي ایف آئی ڈی کی مدد سے کیا گیا تھا۔ ادارے کی یہ مہم انیس ریاستوں کے دو ہزار سات سو سرکاری اور سرکار کی مدد سے چلنے والے سکولوں میں شروع کی گئی ہے۔
سلینہ سنگھ کا کہنا ہے کہ ’اس مہم سے یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ قدامت پسند سماج میں بھی اب تبدیلیاں آرہی ہیں اور پہلے کے مقابلے اب کم عمری میں جنسی تعلقات پیدا کرنے کا رجحان زیادہ ہے۔‘
مدھیہ پردیش |
اس مہم کے دوران بہت سے طلباء نےتفریح کے طور پر ( پورن ) یا ’جنسی فلم‘ دیکھنے کا اقرار کیا۔ تقریباً تیئس فیصد سے زیادہ لڑکیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلی مرتبہ جنسی تعلقات اپنے قریبی رشتےداروں کے ساتھ بنائے تھے۔
ایڈز کنٹرول سوسائٹی نے حکومت کو سکول کے نصاب میں سیکس ایجوکیشن کے متعلق ایک نیا باب شروع کرنے کا مشورہ دیا ہے اور والدین سے بھی جنسیات کے بارے میں اپنے رویۓ کو نرم کرنے کی درخواست کی ہے۔
محترمہ سنگھ کا کہنا تھا کہ ’ان انکشافات کے بعد زيادہ تر والدین ’صدمے کی حالت‘ میں ہیں۔
اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں جس تیزی سے ایڈز یا ایچ آئی وی کے معاملے سامنے آرہے ہیں ایسے ماحول میں اس طرح کے جائزے بے حد ضروری ہیں۔
متحرمہ سنگھ نے بتایا کہ گزشتہ عشرے میں مدھیہ پردیش میں 1740 ایڈز کے کیس سامنے آئے ہیں جس میں پندرہ سالہ بچے بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں ایچ آئی وی انفکشن کے پھیلاؤ کی شرح کافی کم تھی۔ لیکن گزشتہ ماہ دس روز کے اندر ایڈز سے ایک ہی خاندان کے دو افراد کی موت ہو نے کے بعد خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔