شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان میں ریزرویشن (یعنی مخصوص کوٹہ مقرر کرنا) ایک حساس معاملہ رہا ہے۔
آزادی کے بعد پہلی بار ملازمتوں اور منتخب اداروں میں دلتوں اور قبائلیوں کے لیۓ سیٹیں مخصوص کی گئیں۔ ملک میں اس طبقے کی آبادی 25 فی صد سے زیادہ ہے اور انہیں تقریباً ڈھائی ہزار سال تک نسل پرستی سے بھی بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ریزوریشن سے دلتوں کے حالات بدلے ہیں اور انہیں خاطر خواہ فائدہ ہوا ہے۔
ملک میں ذات پات کی بنیاد پر اعداد و شمار حکومت نے جمع کر رکھے ہیں لیکن یہ کبھی جاری نہیں کی گئے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں اعلیٰ ذات کے لوگوں کی تعداد 25 فی صد سے کم ہے لیکن ایک دلت رہنما ادت راج کا کہنا ہے کہ ’80 فی صد ملازمتوں پر انہی نام نہاد اعلی ذات کے لوگوں کا قبضہ ہے۔‘
![]() | |
| 1995 مایاوتی کماری کسی بھارتی ریاست کی پہلی دلت وزیر اعلی بنیں |
ادت راج کا کہنا ہے کہ حکومت، عدلیہ ، تعلیمی اداروں اور میڈیا سب ہی پر اعلی ذات کے لوگوں کا قبضہ ہے۔’ریزرویشن کی تجویز کے خلاف طلباء نے نہیں بلکہ میڈیا نے تحریک چھیڑ رکھی ہے‘۔
سماجی طور پر پسماندگی کے شکار لوگوں کو اوپر لانے کے لیئے ریزرویشن دینے کے سوال پر یہ بحث ہو رہی ہے کہ آیا اس سے بہتر بھی کوئی متبادل ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی ماہر اقتصادیات ایلا پٹنایک کہتی ہیں ’حکومت کو چاہئیے کہ وہ گاؤں اور قصبووں میں سکولوں کی تعلیم کو بہتر بنائے اس سے کافی مدد ملے گی۔‘
ان کا خیال ہے کہ کانگریس اور بی جے پی پر اعلی ذات کے لوگوں کا غلبہ ہے اور میڈیکل طلباء کی مخالفت دراصل انہیں جماعتوں کی پشت پناہی سے ہو رہی ہے۔‘
حکومت بھی اس معاملے کو حساس سمجھتی ہے اور وہ ایک ایسے طریقے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت پسماندہ ذاتوں کو ریزرویشن بھی دیا جائے او راعلی ذات کے طلباء کے مفاد کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچے۔
یہ مقصد تعلیمی اداروں میں سیٹوں میں زبردست اضافے کے ذریعے حاصل کرنے کی تجویز ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ عمل سرکاری ہی نہیں پرائیویٹ اداروں اور کمپنیوں میں اختیار کرنا ہوگا۔