Sunday, 14 May, 2006, 06:13 GMT 11:13 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
جسم فروشی قانونا صحیح
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حالیہ جنسی اسکینڈل کے درمیان یہ معلوم ہوا ہے کہ پورے جنوبی ایشیا میں جموں و کشمیر واحد خطہ ہے جہاں جسم فروشی کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ ریاستی حکومت اب اس پرانے قانون کو ختم کرنے جارہی ہے۔
سن 1921کے پبلک پراسٹیچیوٹس رجسٹریشن قانون کے تحت کوئی بھی سیکس ورکرضلع مجسٹریٹ کے دفتر میں ایک درخواست فارم بھر کر پانچ روپے کی فیس کے ساتھ خود کو درج کرا سکتا ہے اور قانونی طور پر جسم فروشی کا کاروبار کرسکتا ہے۔ کشمیر بار ایسوسی ایشن نے مفاد عامہ کی ایک عذرداری میں اس قانون کو ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔
انگریز ڈرائیور
بھلا ہو کامن ویلتھ گیمز کا، دلی کی قسمت چمک گئی ہے۔ ایک طرف پورے شہر کو حسین و جمیل بنایا جارہا ہے تو دوسری طرف ٹرانسپورٹ کو بہتر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اب دلی کی حکومت نے دارالحکومت کے ٹیکسی ڈرائیوروں کو انگریزی سکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ چار برسوں میں دلی کے سبھی آٹو اور ٹیکسی ڈرائیور کو انگریزی کا یہ کورس کریں گے۔
ہند پاک غیرسرکاری تجارت
گزشتہ مہینوں میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تجارت شروع کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے گۓ ہیں لیکن ہندوستان کے تجزیاتی ادارے ایسیوچیم کے ایک جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرکاری کے بجائے غیرسرکاری تجارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جائزے کے مطابق گزشتہ مالی برس میں دونوں ملکوں کے درمیان سرکاری طور پر 70 کروڑ ڈالر کی تجارت ہوئی۔ اس کے برعکس غیرسرکاری تجارت میں 37 فی صد کا اضافہ ہوا ہے اور وہ تقریبا ایک ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ غیرسرکاری تجارت عموما کسی تیسرے ملک کے توسط سے اور اسمگلنگ کے ذریعے ہوتی ہے۔
سیاحت کی دھوم
ہندوستان میں اندرون ملک سیاحت میں زبردست اضافہ ہورہا ہے۔ ٹریول ایسوسی ایشن کے اندازے کے مطابق اس برس گرمی کے موسم کے دوران تقریبا 30 کروڑ ہندوستانی سیاحت پر نکلیں گے۔
موبائل پر راحت
ہندوستان میں ایک عرصے سے بینک سے لے کر انشورنس کمپنیوں اور مختلف مصنوعات بنانے والے تجارتی ادارے اپنے پروڈکٹ کی فروغ کے لیے موبائل فون پر صارفین کو ان چاہے پیغامات دیتے رہتے ہیں۔
ان کمپنیوں کے نمائندے کبھی ایس ایم ایس تو کبھی کالز کے ذریعے صارفین کو تنگ کرتے ہیں۔ اب صارفین کی عدالت نے موبائل کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ صارفین کے موبائل نمبر اور تفصیلات کسی کو بھی فراہم نہ کریں۔ اگر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا تو ان کے لائسنس تک کینسل ہوسکتے ہیں۔
انگریزی کا بول بولا
ہندوستان کے تعلیمی اداروں میں انگریزی کا چلن عام ہے۔ بیشتر نصابی کتابیں انگریزی میں دستیاب ہیں۔ دلی یونیورسٹی، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور آئی آئی ٹی جیسے تعلیمی اداروں میں تعلیم کا ذریعہ انگریزی ہی ہے۔
لیکن بعض طلبہ انگریزی کے بجائے ہندی میڈیم اختیار کرتے ہیں۔ لیکن ان طلبہ کو نہ صرف یہ کہ ہندی میں لیکچر دینے والا کوئی نہیں ہوتا بلکہ اکثر نصابی کتابیں بھی ہندی میں نہیں ملتیں۔ صورتحال اس حد تک مشکل ہوگئی ہے کہ مفاد عامہ کی ایک درخواست پرگزشتہ دنوں دلی ہائی کورٹ نے دلی یونیورسٹی کو حکم دیا ہے کہ وہ ہندی میں نصابی کتابوں کی دستیابی کو یقینیی بنائے۔