Saturday, 13 May, 2006, 11:36 GMT 16:36 PST
ریاض مسرور
سرینگر
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ریستورانوں اور فاسٹ فوڈ سٹالوں کے مالکان جنسی سکینڈل کی تفتیش کے نتائج کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ اس بےتابی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جنسی سکینڈل کے سنسنی خیز انکشاف کے بعد ریستورانوں میں نوجوان جوڑوں کی آمد اچانک بند ہوگئی ہے۔
سری نگر کے مصروف بازار لال چوک میں مقبول ریستوراں واٹرمال کے منیجر محمد یوسف کا کہنا ہے کہ اس سکینڈل کی بےحد تشہیر نے سماج میں خوف پیدا کیا ہے۔ یوسف کے کہنا ہے: ’ہمارا تو اوپن ریستوراں ہے۔ یہاں سافٹ کپل آتے ہیں۔ لیکن پچھلے ہفتے سے ستر فی صد کام گھٹ گیا ہے۔‘
گزشتہ سال ستمبر میں اسلامی نظام کی حامی جماعت دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے ریستورانوں میں علیحدہ کیبن سسٹم کے خلاف مہم چلائی تھی۔ اس مہم کے بعد تقریبا سبھی ایسی جگہوں پر کیبن ہٹا لیئے گۓ تھے۔
کشمیر ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے سربراہ حبیب اللہ کہتے ہیں کہ ’مکہ معظمہ جیسی مقدس سٹی میں بھی اوپن ریستوراں ہیں جہاں اخلاقی حدود کے اندر مرد، عورتیں اور لڑکے لڑکیاں فرصت کے لمحات میں کھانا کھاتے ہیں۔‘
اشتیاق کا کہنا ہے لال چوک اور اس کے گردونواح میں سیاحوں کی آمد گزشتہ ماہ ہونے والے سیریل بلاسٹ کے بعد بہت کم ہوگئی ہے۔ لہذا ریستورانوں کے کام کا دارومدار مقامی لوگوں خاص کر نوجوان جوڑوں پر ہے۔ اشتیاق نے بتایا کہ پچھلے دس روز میں اسی فیصد کام گھٹ گیا ہے۔
ریستورانوں کی انجمن کے سربراہ حبیب اللہ میر کے مطابق سری نگر شہر میں سو سے زائد ریستوراں تیس ہزار لوگوں کے روز گار کا ذریعہ ہیں۔
کشمیر یونیورسٹی میں شعبۂ تاریخ کے سربراہ محمد اشرف وانی اس صورتحال کو عارضی مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پورا سماج ڈسٹرب ہے۔ ہوٹلوں اور ریستورانوں میں جوڑوں کی غیرحاضری کا مطلب یہ ہےکہ عوام نے تفتیش مکمل ہونے تک آؤٹنگ کو ملتوی کر دیا ہے۔ لیکن یہ ایک عارضی مرحلہ ہے۔‘
اشرف وانی کے مطابق یہ لوگوں کا اجتماعی فیصلہ ہو سکتا ہے کیونکہ جنسی سکینڈل میں درجنوں نام لیے جارہے ہیں اور تفتیش ابھی پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچی ہے۔