Thursday, 11 May, 2006, 08:09 GMT 13:09 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
ہندوستان کی پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے ابتدائی رحجانات میں مغربی بنگال اور کیرالہ میں بائیں محاذ کو جبکہ تامل ناڈو، پانڈیچیری اور آسام میں کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو برتری حاصل ہے۔
سونیا کے حریفوں میں سے سب کی ضمانت ضبط ہوگئی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں وہ ڈھائی لاکھ ووٹوں سے کامیاب رہی تھیں۔
مغربی بنگال: بائیں بازو کی پھر کامیابی
ادھر مغربی بنگال میں برسر اقتدار بایاں محاذ ایک بڑی جیت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسمبلی کی 293 سیٹوں میں دو سو تئیس پر محاذ کو برتری تھی۔ کیرالہ میں بھی توقع کے مطابق بایاں محاذ دو تہائی اکثریت کی طرف بڑھ رہا ہے۔
تامل ناڈو - جے للیتا شکست کی جانب
سب سے زیادہ دلچسپ رحجانات تامل ناڈو سے آرہے ہیں جہاں ڈی ایم کے اور کانگریس کا اتحاد بڑی جیت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انتخابی جائزوں میں وزیر اعلی جے للیتا کی جماعت اے آئی ڈی ایم کے کی فتح کی پیشگوئیاں کی گئی تھیں۔ یہاں 234 سیٹوں میں سے ایک سو اٹھاون پر ڈی ایم کے اور کانگریس کا اتحاد آگے تھا جبکہ حریف اے آئی ڈی ایم کے چوہتر پر آگے تھی۔
آسام: کانگریس کامیابی کی جانب؟
آسام میں کانگریس اپی حریف جماعتوں سے آگے ہے لیکن وہاں صورتحال مشکل نظر آتی ہے۔ 126 رکنی اسمبلی میں ابتدائی رحجانات کے مطابق کانگریس بیالیس سیٹوں میں آگے تھی جبکہ حریف جماعت اے جی پی کو محض بائیس سیٹوں پر سبقت حاصل تھی۔ ابتدائی رحجانات کی بنیاد پر یہ کہنا مشکل ہے کہ کانگریس اپنے زور پر اپنی حکومت برقرار رکھ سکے گی یا نہیں۔
کیرالہ میں باياں محاذ ایک سو چالیس رکنی اسمبلی میں اٹھانوے نشستوں پر آگے ہے جبکہ حریف یو ڈی ایف کو صرف بیالیس سیٹوں پر سبقت ہے۔ کیرالہ میں یو ڈی ایف کی حکومت تھی۔
پانڈیچری میں تیس رکنی اسمبلی میں کانگریس بیس سیٹوں کی سبقت کے ساتھ دو تہائی اکثریت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سات سیٹوں پر ڈی ایم کے آگے ہے۔