http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 08 May, 2006, 17:41 GMT 22:41 PST

’مذاکرات نقصان پہنچائیں گے‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح شدت پسندوں کے ایک اہم اتحاد نے علیحدگی پسندوں سے کہا ہے کہ انڈین حکومت سے مذاکرات نہ کیے جائیں۔

ذہنوں کی ملاقات تھی: منموہن سنگھ

متحدہ جہاد کونسل (یو جے سی) کی جانب سے بی بی سی کو فیکس کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں حریت کانفرنس اور انڈین حکومت کے درمیان ہونے والے مزید مذاکرات ’بے مصرف کوشش‘ ہونگے کیونکہ ان کے نتیجے میں اب تک ’عام کشمیریوں کے خلاف انڈین فوج کے مظالم میں کوئی کمی نہیں آئی‘۔

بیان میں علیحدگی پسندوں سے کہا گیا ہے کہ وہ انڈین حکومت سے مذاکرات کر کے اسے تنازعہ کشمیر کے حل سے پہلو تہی کا موقع فراہم کریں گے اور اس طرح بقول ان کے ’آزادی کی جاری جدو جہد کو نقصان پہنچانے کا باعث بنیں گے‘۔

یہ بیان انڈین وزیراعظم منموہن سنگھ اور حریت کانفرنس کے درمیان سرینگر میں 25 مئی کو ہونے والے مذاکرات سے قبل جاری کیا گیا ہے۔

حریت کانفرنس کے میر واعظ عمر فاروق نے جو مبصرین کے مطابق اعتدال پسندوں میں شمار کیے جاتے ہیں ابھی مذاکرت میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا ہے‘۔

اس سے پہلے وہ تین مئی کو دلی میں انڈین وزیراعظم سے ہونے والے مذاکرات میں چھ رکنی وفد کی قیادت کر چکے ہیں۔

شدت پسندوں نے اس سے پہلے مذاکرات کے حامی رہنماؤں کو مذاکرات کرنے سے منع کیا تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے مذاکرات کیے۔