http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 07 May, 2006, 14:56 GMT 19:56 PST

کلپنا کے بعد سُنیتا خلائی سفر پر

امریکہ کی خلائی ایجنسی ناسا نے کلپنا چاؤلہ کے بعد اب ایک اور انڈین نژاد خاتون کو خلا میں بھیجنے کے لیئے منتخب کیا ہے۔

سنیتا لین ولیمز کو بین الاقوامی سپیس سٹیشن کے’مہم 14‘ کی ٹیم میں شامل کیاگیا ہے۔

امید ہے کہ سنیتا ستمبر میں فلوریڈا کے کیپ کینریول سے اپنے خلائی سفر کا آغاز کریں گی۔ ناسا کی اس خلائی مہم میں سنیتا کو پرواز کی ماہر کے طور پر شامل کیا گیا ہے اور خیال ہے کہ سنیتا خلا میں چھ مہینے تک رہیں گی۔

سنیتا کی پیدائش 1965 میں امریکہ کی ریاست اوہایو میں ہوئی۔ ان کے والد 1958 میں انڈیا کی ریاست گجرات کے شہر احمدآباد سے آ کر یہاں قیام پذیر ہوئے تھے۔ سنیتا کو 1998 میں ہی ناسا میں شامل کیا گیا تھا تاہم انہیں خلا میں جانے کا موقع اب ملا ہے۔ اس سے پہلے انہیں ’ریزرو‘ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔

سنیتا کے والد دیپک پانڈیا اور ماں بونی پانڈیا بیٹی کی کامیابی پر خوش ہیں۔سنیتا کی ماں بونی کہتی ہیں کہ’ارے میں بتا نہیں سکتی کہ میں کتنی خوش ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ سنیتا کافی عرصے سے اس بلاوے کا انتظار کر رہی تھی اور اب اس کا خواب پورا ہونے والا ہے‘۔

سنیتا کے والد دیپک کا کہنا ہے کہ’یہ انڈیا کے لیئے بھی فخر کی بات ہے۔ سنیتا کے والد خود بھی پائلٹ رہے ہیں اور اس وقت پولیس افسر ہیں۔ سنیتا لڑاکا جہاز کی پائلٹ بھی ہیں اور انہیں مختلف جہازوں کو اڑانے کا سات ہزار دو سوگھنٹے کا تجربہ بھی ہے۔

2003 میں ناسا کی شٹل کولمبیا کے حادثے میں انڈین نژاد خلاباز کلپنا چاؤلہ کی موت سے خلابازی سے متعلق خطرے کھل کر سامنے آئے تھے۔ تاہم اس سلسلسے میں سنیتا کا کہنا ہے کہ ’خطرہ تو کار چلانے میں بھی ہے‘۔ سنیتا کی ماں کہتی ہیں کہ کلپنا چاؤلہ سنیتا کی اچھی دوست تھیں اور سنیتا نے کلپنا سے کافی کچھ سیکھا ہے۔