صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
شمالی انڈیا کے بیشتر علاقے آج کل بجلی کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔ لو اور شدید گرمی کے موسم میں کئی کئی گھنٹے بجلی کے غائب رہنے سے لوگوں میں زبردست غم وغصہ ہے اور اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ کم توانائی کے سبب سب سے زیادہ پریشانی دارلحکومت دلی میں ہے۔
اس سے قبل بجلی کی قلت اور توانائی کی تقسیم کی خامیوں پر سپریم کورٹ نےحکومت کی سرزنش کی تھی اور پوچھا تھا کہ آخر حکومت ان مسائل سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہی ہے۔ عدالت کی مداخلت کے بعد ہی دلی سرکار نے بجلی کے خرچ کو کم کرنے لیے نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔
دریں اثناء شمالی ریاستوں کے توانائی سیکریٹریوں نے دلی میں ایک اہم میٹنگ کے بعد کہا ہے کہ بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے شعبہ توانائی نےجو اقدامات کیے ہیں اس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ میٹنگ کے بعد توانائی کے سیکریٹری آر وی شاہی نے نے کہا کہ ’جن علاقوں کو بجلی کی قلت کا سامنا ہے انہیں ہماچل پردیش ، ٹہری اور ستلج کے گرڈز سے جلد ہی اضافی بجلی مہیّا کی جائے گی جس سے مشکلیں کم ہو جائیں گی‘۔
![]() | |
| شمالی انڈیا میں راجستھان، ہریانا، اترپردیش، بہار اور دلی جیسی ریاستوں میں اس وقت زبردست گرمی ہے |
ادھر ریاست اترپردیش میں بجلی کی قلت سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایک نئے قانون کے تحت تمام دکانوں و تجارتی کمپلیکسز کو شام ساڑھے سات بجے کے بعد بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
شمالی انڈیا میں راجستھان، ہریانا، اترپردیش، بہار اور دلی جیسی ریاستوں میں اس وقت زبردست گرمی ہے اور بجلی کی کمی کے سبب عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جمعہ کے روز ریاست دلی کا درجہ حرارت 43 ڈگری سنٹی گریڈ تھا اور کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی غائب رہی تھی۔
سپریم کورٹ نے دلی سرکار کو ایک نوٹس جاری کرکے پوچھا ہے کہ بجلی کی خراب حالت سے نمٹنے کے لیےوہ کیا اقدامات کر رہی ہے۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا ہے کہ اگر ریاست میں بجلی کی یہی حالت رہی تو سنہ 2010 میں ہونے والے کامن ویلتھ کھیلوں کے دوران وہ بجلی کا بند و بست کیسے کرے گی۔
دلی میں بڑے پیمانے پر بجلی کی چوری ہوتی ہے جس سے بجلی کی تقسیم پر برا اثر پڑتا ہے۔ بعض افسران کے مطابق دلی میں تقریباً پیتیس فیصد بجلی چوری ہو جاتی ہے۔