Wednesday, 03 May, 2006, 18:24 GMT 23:24 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
کشمیر کے علحیدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس کے سرکردہ لیڈر میر واعظ عمر فاروق نے بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ کشمیر مسئلے پر جامع بات چیت کے لیے جلد ہی ایک طریقہ کار وضع کیا جائےگا۔
مولوی عمر فاروق نے کہا کہ حریت کانفرنس نے وزیراعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ’ کشمیر کے تمام حساس اور اہم پہلوؤں پر بات چیت ہوئی ہے اور بات چیت کے عمل کو با معنی بنانے اور اسے تیز تر کرنے کے لیے حریت کانفرس حکومت کو جلدی ہی ایک طریقہ کار کی تجاویز پیش کریگی۔‘
مسٹر فاروق نے بتایا کہ وزیراعظم کے ساتھ ان کی ملاقات خوشگوار تھی۔
وزیر اعظم کے اطلاعات کے مشیر سنجۓ باروکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے بھی کشمیر کے متعلق کئی امور پر بات چیت کی ہے اور بات چیت کے نتائج پر انہوں نے خوشی ظاہر کی ہے۔
مسٹر بارو کے مطابق منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ’ آج کی ملاقات ذہنوں کی ملاقات تھی اور یہ بات چیت نہ صرف کشمیریوں کے لیے بلکہ پورے ہندوستان کے عوام اور پورے خطے کے لیے خوش آئند ثابت ہوگی۔‘
مسٹر بارو کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے حریت کانفرنس کو یقین دلایا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے جن امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے ان کے حل کے لیے اگر وہ کوئی تچویز پیش کرتے ہیں تو حکومت اس پر غور و فکرکے لیے تیار ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مسٹر فاروق نے کہا کہ کشمیر مسئلے پر گول میز کانفرنس کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے لیکن اس بارے میں حریت کے کچھ خدشات ہیں جس کے متعلق حکومت کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ انہوں کہا کہ’گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے ابھی حریت نے کوئی فیصلہ نہیں کیاہے۔ اس پر فیصلے کے لیے ایک میٹنگ بلائی جائیگی اور تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔‘
مولوی فاروق کا کہنا تھا کہ کشمیر معاملے پر دوسری جماعتوں کے ساتھ بات چیت کی حریت مخالف نہیں ہے۔ لیکن چونکہ پریشانیاں حکومت اور علحیدگی پسندوں کے درمیان ہیں اس لیے مذاکرات کا محور انہیں مشکلات پر ہونی چاہیں۔
وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بات چیت کے لیے حریت کانفرنس کے رہنماؤں کو دلی آنے کی دعوت دی تھی۔ آج کی بات چیت میں مولوی عمر فاروق کے علاوہ مولانا عباس انصاری، بلال غنی لون ، عبد الغنی بھٹ، فضل حق قریشی اور آغاسیّد حسن نے حریت کانفرنس کی جانب سے بات چیت میں شرکت کیا۔
وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ وزیر داخلہ شیو راج پاٹل، سلامتی کے مشیر این کے نارینن، کشمیر معاملے پر حکومت کے مشیر این این ووہرا اور داخلہ سیکریٹری وی کے دگل موجود تھے۔