Wednesday, 03 May, 2006, 02:36 GMT 07:36 PST
ہندوستان کے مغربی شہر وڈودرہ میں بدھ کی صبح ایک پرتشدد واقع میں مشتعل ہجوم نے ایک شخص کو زندہ جلا کر ہلاک کر دیا ہے۔
ہلاک ہونے والا شخص شہر کے اجوا روڈ علاقے میں اپنی گاڑی پر جا رہا تھا کہ ہجوم نے اسے روک کر اس کی گاڑی الٹا دی اور گاڑی کو آگ لگا دی۔
اس حادثے کے بعد علاقے کے رہائشیوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور کئی ایک نے پولیس پر الزام لگایا کہ وہ موقع واردات پر وقت پر نہیں پہنچی۔
شہر کے کئی مشرقی حصوں میں اب بھی کرفیو لگا ہوا ہے۔
منگل کو کئی علاقوں میں پرتشدد واقعات کے بعد رات گئے صرف پانی گیٹ کے علاقے میں پتھراؤ کے چند واقعات کی اطلاع ملی ہے۔
اس کے علاوہ سٹیٹ ریزرو پولیس پر تیزاب کے بم پھینکنے کی بھی اطلاع ملی ہے۔
ریاست گجرات کے شہر وڈودرہ میں یہ تشدد سوموار کو شروع ہوا جب پولیس اور مقامی مسلمانوں کے درمیان جھڑپ میں چار افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پیر کو ناجائز تعمیرات ہٹانے کی مہم کے دوران پولیس نے ایک درگاہ کو منہدم کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ درگاہ غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی۔ مقامی مسلمانوں نے درگاہ کے انہدام کے خلاف احتجاج شروع کیا اور جب صورت حال قابو سے باہر ہونے لگی تو پولیس کو گولی چلانی پڑی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقامی مسلمانوں نے حکام اور شہر کے میئر سے درخواست کی تھی کہ درگاہ کو منہدم نہ کیا جائے کیوں کہ یہ دو سو سال سے زيادہ پرانی ہے اور اس کے انہدام سے بہت سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوں گے لیکن چونکہ یہ درگاہ سڑک پر واقع تھی اور اس کے سبب ٹریفک کی روانی میں زبردست مشکلات کا سامنا تھا اس لیئے حکام نے اسے منہدم کرنے کا فیصلہ کیا۔
وڈودرہ میونسپل کارپوریشن نے پچھلے پندرہ دنوں سے ناجائز تعمیرات کے خلاف مہم چلا رکھی ہے اور اس کے تحت پولیس غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہر عمارت، مندر یہاں تک کہ سرکاری عمارتوں کو بھی منہدم کر رہی ہے۔