Tuesday, 02 May, 2006, 06:14 GMT 11:14 PST
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مبینہ علیحدگی پسندوں کے ہاتھوں دو الگ الگ واقعات میں پینتیس ہندوؤں کی ہلاکت کے بعد وادی کے مختلف علاقوں میں احتجاجاً ہڑتال کی گئی ہے۔
ہڑتال کے نتیجے میں ریاست جموں میں کاروبارِ زندگی خاصی حد تک متاثر ہوا ہے۔
انڈین فوج نے بھی ڈوڈہ اور اودھم پور کے نواحی علاقوں میں ہندوؤں کے قاتلوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔اس آپریشن میں کمانڈوز حصہ لے رہے ہیں اور دوردراز علاقوں تک پہنچنے کے لیئے ہیلی کاپٹرو ں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔
منگل کو انڈیا کے وزیرِ داخلہ شیو راج پاٹل بھی ضلع ڈوڈہ میں واقع جائے وقوع کا دورہ کرنے کے لیئے کشمیر پہنچے مگر موسم کی خرابی کی وجہ سے وہ وہاں نہیں جا سکے۔
تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم گزشتہ روز علیحدگی پسند کشمیری گروہ حزب المجاہدین نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ یہ کام انڈیا کے خفیہ ادارے کا ہے۔
یہ حملہ حریت رہنماؤں اور وزیرِاعظم منموہن سنگھ کی ملاقات سے دو روز قبل کیا گیا۔ حریت رہنما اور انڈین وزیرِاعظم کشمیر کے مسئلے پر بات چیت کے لیئے تین مئی کو ملاقات کرنے والے ہیں۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 1989 سے جاری علیحدگی پسند مزاحمتی تحریک کے نتیجے میں اب تک ساٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ مبینہ علیحدگی پسندوں نے اتوار کی رات ضلع ڈوڈا کے تین دیہات سے بائیس افراد کو چن کر کلہند گاؤں کے مکھیا کے گھر جمع کیا اور انہیں گولی مار دی تھی جبکہ ادھم پور کے علاقے میں کشمیر پولیس کو مزید نو ہندو چرواہوں کی لاشیں ملی تھیں جبکہ ہفتے کو بھی پولیس نے چار مغوی ہندو چرواہوں کی لاشیں دریافت کی تھیں۔