Monday, 01 May, 2006, 23:43 GMT 04:43 PST
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے دو دیہات میں مبینہ علیحدگی پسندوں کے تیس سے زیادہ ہندوؤں کو ہلاک کرنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب ہندوستان کے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ آل پارٹی حریت کانفرنس کے اعتدال پسند علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں سے مذاکرات کرنے والے ہیں۔ حریت کانفرنس اور حزب المجاہدین نے ہلاکتوں کی شدید مذمت کی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار رابرٹ والکر لکھتے ہیں کہ بڑا حملہ ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع ڈوڈا میں ہوا۔ مقامی پولیس کے مطابق شدت پسندوں نے رات کے وقت حملہ کیا اور گھر گھر جا کر ہندو دیہاتیوں کو گھروں سے نکالا۔
بچ جانے والے ایک شخص کے مطابق ’شدت پسندوں نے ہم سے کہا کہ ہم گاؤں کے مکھیا کے گھر میں جمع ہو جائیں اور اس کے بعد وہ باہر چلے گئے۔ مکھیا کے گھر میں ہم تقریباً تیس آدمی تھے۔ جب وہ واپس آئے تو انہوں نے ہم پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی‘۔
قریب کے ایک اور ضلع میں مزید تیرہ ہندوؤں کے لاشیں ملی ہیں۔ ان کو اختتام ہفتہ کو مبینہ طور پر مشتبہ شدت پسند اغوا کر کے لے گئے تھے۔
یہ خوفناک ہلاکتیں اس وقت ہوئی ہیں جب ہندوستانی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں سے مذاکرات کرنے والے ہیں۔
![]() | |
| اودھم پور میں ہلاکتوں کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ ہے |
انہوں نے کہا کہ ’میں کہہ رہا ہوں کہ یہ سرحد پار دہشت گردی ہے۔۔۔ یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ہم ایسا کہہ رہے ہیں۔ دراصل حقیقت میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہ گروہ ہیں جن کے ٹھکانے سرحد پار ہیں، لشکرِ طیبہ، حزب المجاہدین اور ایسے دیگر دہشت گرد کروپ‘۔
ہندوستان نے کئی مرتبہ پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس طرح کے گروہوں کو سرحد پر کشمیر میں آنے سے روکنے کے لیئے مناسب اقدامات نہیں کر رہا۔ دونوں ممالک پوری کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر مذاکرات کو آگے بڑھائیں۔
تاہم ہندوستانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ حالیہ حملے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے عمل کو خراب نہیں کر سکیں گے۔
’یہ کسی طرح بھی دہشت گردی سے نمٹنے کے ہندوستان کے عہد کو متاثر نہیں کر سکیں گے اور دوسرا یہ نہ ہی پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں بہتری اور اعتماد میں بحالی کی فضا کو نقصان پہنچا سکیں گے‘۔
آل پارٹیز حریت کانفرنس کے عبدالغنی بھٹ نے کہا ہمیں مسئلے کے حل کی طرف جانے کی رفتار کم نہیں کرنا چاہیئے بلکہ اُس مسئلے کا حل نکالنے کے لیئے رفتار تیز کرنا چاہیئے جس کی وجہ سے سارے جنوبی ایشیا کے امن کو ممکنہ خطرہ ہے۔
دریں اثناء کشمیر کے دیہاتوں میں لوگ اب مزید حملوں کے خوف میں مبتلا ہیں۔