http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 25 April, 2006, 15:59 GMT 20:59 PST

جیہ بچن کی سپریم کورٹ سے اپیل

مشہور اداکارہ اور سماج وادی پارٹی سے تعلق رکھنے والی راجیہ سبھا کی رکن جیہ بچن نے پارلیمینٹ سے اپنی رکنیت ختم کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔

سونیا گاندھی لوک سبھا سے مستعفی

جیہ بچن سماج وادی پارٹی کی پارلیمانی رکن تھیں اور پچھلے مہینے انتخابی کمیشن کی سفارش پر ہندوستان کے صدر اے پی جے عبدالکلام نے ان کی پارلیمانی رکنیت ختم کردی تھی۔

جیہ بچن نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اتر پردیش کی فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی چئر پرسن کی حیثیت سے انہیں کوئی مالی فائدہ نہی ہورہا تھا۔

انتخابی کمیشن کے مطابق جیہ بچن کے پاس ایک سے زائد عہدے تھے جن سے انہیں مالی فائدہ ہو رہا تھا۔

جیہ بچن نہ صرف پارلیمانی رکن کی حیثیت سے حکرمت سے تنخواہ پا رہی تھیں بلکہ اتر پردیش کی فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی چئر پرسن بھی تھیں۔

پارلیمانی قوانین کے مطابق کوئی بھی رکن پارلیمنٹ اپنی رکنیت کے دوران کسی ایسے سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا جس سے اسے مالی فائدہ ہوتا ہو۔

اتر پردیش کے ایک مقامی سیاسی رہنما مدن موہن شکلا نے اکتوبر میں انتخابی کمیشن سے جیہ بچن کی شکایت تھی۔کمیشن نے فیصلہ کرنے سے پہلے اس سلسلے میں کئی بارسماعت کی تھی۔
جیہ بچن کی پارلیمانی رکنیت ختم ہونے کی خبر آتے ہی نامی گرامی سیاستدانوں پر انگلیاں اٹھنے لگنی تھیں ۔ اس سی سلسلے ميں ہندوستان میں حکمراں اتحاد کی چئر پرسن اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی دے دیا۔

انہوں نے حکومت کی قومی مشاورتی کونسل سے بھی استعفی دے دیا تھا۔ محترمہ گاندھی پارلیمنٹ کی رکنیت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے رائے بریلی سے انتخابات لڑ رہی ہیں۔ یہ انتخابات آٹھ مئی کے روز ہیں۔

ایک سے زیادہ فائدہ مند عہدے رکھنے کے حوالے سے تیار کی گئی فہرست میں کم از کم چوالیس ارکانِ پارلیمنٹ کے نام آتے ہیں۔جن میں سونیا گاندھی کے علاوہ لوک سبھا اسپیکر سوم ناتھ چیٹرجی (چئرمین آف ویسٹ بنگال انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کو رپوریشن) کرن سنگھ (چئرمین آف آنڈین کاؤنسل آف کلچرل ریلیشنز) کے نام شامل تھے۔ کرن سنگھ نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفی دے چکے ہيں۔