Friday, 21 April, 2006, 13:31 GMT 18:31 PST
ریحانہ بستی والا
ممبئی
ممبئی الیکٹرک سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ یا ’بی ای ایس ٹی‘ کے چوالیس ہزار ملازمین تنخواہ میں عبوری امداد، مہنگائی اور بھتہ بند کرنے کے خلاف غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔
ممبئی میں بسیں شہر کی لائف لائن سمجھی جاتی ہیں۔ کیونکہ وہ ٹرانسپورٹ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اس لیے ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔
ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے اس شہر میں تقریبا چالیس سے پینتالیس لاکھ مسافر بی ای ایس ٹی کی بسوں سے سفر کرتے ہیں۔ ہڑتال سے کالج، دفاتر اور دیگر کام پر جانے والے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بی ای ایس ٹی کے جنرل مینجر سوادھین چھتریہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے عوام کی سہولت کے لیے نجی بسوں کا سہارا لیا ہے جولوگوں کو ریلوے سٹیشن سے ان کی منزل تک پہنچانے کا کام کریں گی۔
![]() | |
| ہڑتال سے دوکانیں بھی بند رہیں |
ایک مسافرتنویر خان کا کہنا تھا’ہم صرف چار ہزار روپیہ ماہانہ کماتے ہیں اس لیے بس کے علاوہ ٹیکسی میں سفر نہیں کر سکتے۔ اب کیا کریں میں پیدل ہی اپنی منزل کی طرف جا رہا ہوں۔ میرے پاس ٹیکسی میں جانے کے لیے پیسہ نہیں ہیں اور اگر مجھے ہڑتال کے بارے میں پہلے سے معلوم ہوتا تو میں گھر سے کام کے لیے نہیں نکلتا‘۔
میونسپل مزدور یونین کے لیڈر شرد راؤ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور میونسپل انتظامیہ مزدوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔
حکومت نے ’مہنگائی بھتہ‘ بند کر دیا ہے اور گزشتہ چار برسوں سے جو عبوری امداد کے نام پر رقم مل رہی تھی اسے بھی انہوں نے واپس لے لیا ہے۔
![]() | |
| ہڑتال سے سکول جانے والے بچوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا |
گزشتہ برس ’بی ای ایس ٹی‘ کے ملازمین کی تنخواہ پر نظر ثانی کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی۔
ملازمین کو یقین تھا کہ اس کمیٹی کی رپورٹ سے ان کی تنخواہ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے لیکن فیصلہ ان کی امیدوں کے برعکس آیا اور کہا گیا کہ جو تنخواہوں پردی جارہی تھیں وہ زیادہ تھیں اس لیے ان کی تنخواہوں سے پیسے کاٹے جائیں گے۔
شرد راؤ نے اس پورے معاملہ کو ریاستی وزیرمحصولات نارائن رانے کی سازش قرار دیا۔
![]() | |
| ممبئی کے لوگ ہڑتال سے پریشان ہیں |
ممبئی ہندوستان کا سب سے اہم صنعتی شہر ہے اور اس ہڑتال سے تجارتی سطح پر بھی کروڑوں کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔