http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 21 April, 2006, 11:17 GMT 16:17 PST

نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کلکتہ

’اب تبدیلی ضروری ہے،

ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ اور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما بدھا دیو بھٹ اچاریہ کا کہنا ہے کہ ریاست کی ترقی کے لیے کھلے ذہن سے سوچناضروری ہے اور اس کے لیے ضرورت پڑنے پر فکر و نظر میں تبدیلی بھی لانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انکی پارٹی ان باتوں کو اچھی طرح سمجھ چکی ہے۔

بی بی سی سے ایک خصوصی بات چیت میں انہوں نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں کمیونسٹوں کی سوچ میں تبدیلی آرہی ہے اور ’ہمیں بھی بدلنا ہوگا‘۔ ان کا کہنا تھا کا پارٹی کی پالسیز مرتب کرنےسے پہلے موجودہ حالات کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ ضروریات کے مطابق انہیں ڈھالا جا سکے۔

مسٹر بھٹ اچاریہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ریاست کی معاشی ترقی بیرونی سرمایہ کاری کے بغیر ممکن نہیں ہے اسی لیے وہ ایف ڈی آئی یعنی بیرونی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فی الوقت ڈی ایف آئی ڈی، اور اے ڈی بی جیسے کئی بیرونی بینک و ادارے ریاست کی اقتصادی و تعلیمی ترقی اورصحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے مالی مدد فراہم کر رہی ہیں۔

 انکا کہنا تھا کہ روایتی طور پر کمیونسٹ پارٹیاں بیرونی سرمایہ کاری کی مخالفت کرتی رہی ہیں اور چونکہ وہ خود ایک کمیونسٹ رہنما اور بایاں محاذ کے لیڈر ہیں اس لیے نئی اقتصادی پالیسیز کے سبب انہیں اپنی ہی پارٹی میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن سینئر لیڈروں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ان معاملات کوحل کیا جاتا ہے۔
 

ان کا کہنا تھا کہ روایتی طور پر کمیونسٹ پارٹیاں بیرونی سرمایہ کاری کی مخالفت کرتی رہی ہیں اور چونکہ وہ خود ایک کمیونسٹ رہنما اور بائیں محاذ کے لیڈر ہیں اس لیے نئی اقتصادی پالیسیز کے سبب انہیں اپنی ہی پارٹی میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن سینئر لیڈروں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ان معاملات کوحل کیا جاتا ہے۔

مسٹر بھٹ اچاریہ کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ پانچ برسوں میں ریاست کے غریب طبقے کی ترقی اور کاشتکاروں کی بہتری پر خاص توجہ دیں گے۔ اور کوشش کریں گے کہ بیرونی ممالک کے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کار ریاست مغربی بنگال میں سرمایہ کاری کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ نوجوان طلبہ جو اس وقت مختلف انجینیئرنگ اور ٹیکنالوجی یونیورسٹیز سے فارغ ہو رہے ہیں ریاست کی ترقی میں اہم رول ادا کریں گے۔

مغربی بنگال میں گزشتہ انتیس برسوں سے بایاں محاذ اقتدار میں ہے لیکن ریاست کی معاشی حالت زیادہ اچھی نہیں ہے۔ ریاست میں عوام کا ایک بڑا طبقہ غریت کا شکار ہے جنہیں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔
مغربی بنگال میں گزشتہ انتیس برسوں سے بایاں محاذ اقتدار میں ہے
مغربی بنگال میں گزشتہ انتیس برسوں سے بایاں محاذ اقتدار میں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کمزور ریاستوں کو زبوں حالی سے بچانے کے لیے وفاقی حکومت پر بھی بعض ذمہ داریاں ہیں اور جب مرکزی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتی تب تک ریاست کی ترقی ممکن نہیں ہے۔