Thursday, 20 April, 2006, 23:15 GMT 04:15 PST
سن دوہزار دو کے فسادات کے سلسلے میں سرخیوں میں رہنے والی ہندوستان کی مغربی ریاست گجرات میں ہائی کورٹ نے پولیس پر پانچ مسلمانوں اور ایک سماجی کارکن کے خلاف کارروائی کرنے سے عارضی طور پر روک لگادی ہے۔
پولیس نے چھ افراد کے خلاف گزشتہ جنوری میں قبروں سے غیرقانونی طور پر لاشیں نکالنے کے الزام میں کارروائی شروع کی تھی۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ یہ قبریں مسلمانوں کی ہیں جنہیں دوہزار دو کے فسادات کے دوران ضلع پنچ محل میں ہلاک کردیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے جمعرات کو پولیس سے کہا کہ وہ اٹھائیس اپریل تک کسی کو گرفتار نہ کرے جس دن اس مقدمے کی سماعت ہوگی۔ ہائی کورٹ نے گجرات کی ریاستی حکومت کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا کہ وہ بتائے کہ یہ معاملہ مرکزی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کے حوالے کیوں نہیں کیا جانا چاہیئے۔
دسمبر دوہزار پانچ میں پانچ مسلمانوں نے سماجی کارکن رئیس خان کے ساتھ مل کر ضلع پنچ محل کے پنڈیرواڈا علاقے میں ایک ندی کے کنارے واقع قبروں سے وہاں دفن کیے جانے والے افراد کی ہڈیاں نکالی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ہڈیاں ان کے رشتہ داروں کی ہیں جنہیں گجرات میں ہونے والے فسادات کے دوران ہلاک کردیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ پولیس کے اہلکاروں نے ان کی لاشوں کو یہاں بغیر کسی کو بتائے دفن کردیا تھا۔ تاہم پولیس نے کہا ہے کہ ان لاشوں کو قوانین کے تحت یہاں دفن کیا گیا۔
یہ بات متنازعہ رہی ہے کہ پنڈیرواڈا کے علاقے میں قتل عام میں کتنے لوگ مارے گئے تھے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد چالیس سے زائد ہوسکتی ہے۔ گزشتہ دو جنوری کو پولیس نے چھ افراد کے خلاف غیرقانونی طور پر قبروں سے ہڈیاں اور باقیات نکالنے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔