http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 18 April, 2006, 06:12 GMT 11:12 PST

شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی

جوہری معاہدے میں پیچیدگی

انڈیا نے امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کی اس شق کو مسترد کر دیا ہے کہ اگر اس نے مستقبل میں کبھی جوہری دھماکہ کیا تو امریکہ توانائی میں اپنا تعاون ختم کر دے گا۔

وزارت خارجہ نے اعتراف کیا ہے کہ جوہری توانائی میں تعاون کے معاہدے کا جو پہلا مسودہ امریکہ نے تیار کیا ہے اس میں یہ شق شامل کی گئی ہے کہ اگر ’انڈیا نے کبھی جوہری دھماکہ کیا تو امریکہ تعاون کے عمل کو روک دیگا‘۔

انڈیا کا موقف ہے کہ اس شق کا تعلق امریکہ کی داخلی پالیسی اور قانون سے ہے اور اس سلسلے میں ہندوستان کی رضامندی ضروری ہے۔ دوسرے الفاظ میں جوہری دھماکے کی صورت میں امریکہ اپنے داخلی قانون کے تحت تعاون کے عمل کو یکطرفہ روک سکتا ہے ۔لیکن اگر انڈیا نے مجوزہ شق کو قبول کر لیا تو پھر وہ اس بات کا پابند ہوگا کہ وہ جوہری دھماکے نہ کرے۔

انڈیا جوہری دھماکے کا اپنا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے کہا کہ ’انڈیا نے ابتدائی بات چیت میں امریکہ کو پہلے ہی بتا دیا ہے کہ مجوزہ معاہدے میں اس طرح کی شق کی کوئی جگہ نہیں ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا جولائی 2005 کے اصل معاہدے کے مسودے کا ہی پابند ہے اور جہاں تک ہندوستان کی بات ہے ’وہ جوہری دھماکوں پر اپنے یکطرفہ روک کے فیصلے پر عمل پیرا رہے گا‘۔

انڈیا کے خارجہ سیکرٹری شیام سرن نے امریکی اہلکاروں سے چند ہفتے پہلے اپنی بات چیت میں یہ واضح کر دیا تھا کہ ہندوستان اس شق کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔

اطلاعات ہیں کہ آئندہ ہفتوں میں امریکی اہلکاروں کی ایک ٹیم ایک نئے مسودے کے ساتھ بات چیت کے لئے دلی آرہی ہے۔ وزارت خارجہ میں یہ تاثر ہے کہ جوہری معاہدے پر اتفاق اور منظوری میں دقت نہيں آئےگي۔

ہندوستان اور امریکہ جس معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں اگر یہ طے پا گیا تو اس کے تحت ہندوستان کو نیوکلیائی ٹیکنالوجی اور ایندھن تک رسائی حاصل ہو جائے گی اور وہ جوہری توانائی کے سلسلے میں امریکہ سے ہر طرح کا تعاون حاصل کر سکےگا۔ فی الحال اس معاہدے کا مسودہ امریکی کانگریس میں زير بحث ہے۔