Sunday, 16 April, 2006, 06:30 GMT 11:30 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
وزارت خارجہ گردش میں
ہندوستان کی وزارت خارجہ کو اپنی سفارت کاری پر بڑا فخر ہوا کرتا تھا۔ ملک کے سفارتکاروں پر کبھی انگلیاں نہیں اٹھیں۔ لیکن گزشتہ چند مہینوں سے وزارت خارجہ کے ستار ے گردش میں ہیں۔ چند ہفتے قبل وزیرخارجہ نٹور سنگھ کو عراق میں تیل برائے خوراک پروگرام کے تحت تیل کے سودے میں نام آنے پر اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ ان کے خلاف تحقیقات چل رہی ہے۔
پچھلےدنوں نیوزی لینڈ میں ہندوستان کے سفیر ہریش ڈوگرہ کو سفارتی بدانتظامی کے بعد ملک واپس آنے کے لیئے کہا گیا۔ پہلے تو مسٹر ڈوگرا نے نہ صرف آنے سے انکار کیا بلکہ واپسی کے حکم کو ہی غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نےخارجہ سکریٹری شیام سرن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے آٹھ صفحے کا جوخط مسٹر سرن کو لکھا اس میں انہوں نے لکھا کہ خارجہ سکریٹری نے اپنے فیصلے سے ملک کا مذاق بنایا ہے۔ یہاں وزارت خارجہ والے اس بات پر شرمندہ تھے کہ مسٹر ڈوگرا نے یہ خط اخبارات کو جاری کر کے وزارت خارجہ کی بدنامی کرائی ہے۔
ادھر وزارت خارجہ کے ایک اعلی سفارت کار راکیش کمار پر بعض افراد کو غیرقانونی طور پر جرمنی بھیجنے میں مدد کرنے کا الزام ہے۔ انہیں معطل کر دیا گیا ہے اور سی بی آئی ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ وزارت خارخہ حیران ہے کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔
منمموہن کا دورۂ پاکستان
![]() | |
| گزشتہ ماہ امرتسر۔ننکانہ صاحب بس سروس کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم منموہن سنگھ |
ان حالات میں مسٹرسنگھ کے لیئے دورے کا یہ مناسب وقت ہے۔ صدر مشرف نے گزشتہ برس دلی کا دورہ کیا تھا اورانہوں نے مسٹر سنگھ کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی تھی۔ مسٹر سنگھ نے کچھ دنوں پہلے کہا تھا کہ وہ دورے پر تبھی جائیں گے جب کوئی جامع پیش رفت ہو۔
بی جے پی کے رنگ
گزشتہ دنوں آر ایس ایس کے ترجمان اخبار ’پانچ جنیہ‘ میں بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ کے حوالے سے خبر شائع ہوئی کہ وہ پارٹی کے پرچم سے ہرا رنگ نکال کر اسے مکمل طور پر بھگوا (زعفرانی) رنگ دینے کی کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا بھگوا رنگ ہندوئیت کی ترجمانی کرتا ہے لیکن کانگریس نے بھگوا کو فرقہ پرستی کا استعارہ بنا دیا ہے۔ مسٹر سنگھ کا خیال ہے کہ کانگریس اور دیگر نام نہاد سیکولر جماعتوں کو منہ توڑ جواب دینے کا یہ اچھا طریقہ ہوگا کہ پارٹی کے پرچم کو پوری طرح زعفرانی بنا دیا جائے۔
اس پر بحث چھڑی ہی تھی کہ پارٹی کے سینئیر رہنما ایل کے اڈوانی نے کہا کہ پارٹی کے جھنڈے میں کسی تبدیلی پرکوئی غور نہیں کیا جا رہا ہے۔
دلی اور ممبئی بہت پیچھے
دلی اور ممبئی بلا شبہ ہندوستان کے دو سب سے اچھے شہر ہیں لیکن اگر ان کا موازنہ دنیا کے دیگر اہم شہروں سے کیا جائے تویہ ابھی کافی پیچھے ہیں۔گزشتہ دنوں میعار زندگی کے ایک عالمی جائزے کی رپورٹ شائع ہوئی۔ لندن میں واقع ادارے ’مرکر ہیومن ریسورس کنسلٹِنگ‘ کے اس جائزے کے مطابق ممبئی اور دلی اس فہرست میں 150 ویں نمبر پر ہیں۔ کولمبو، شنگھائی اور بیجنگ کی حالت ان دونوں شہروں سے کہیں بہتر ہے۔
سونےکی قیمت
بین الاقوامی بازار میں گزشتہ دنوں سونے کی قیمتوں میں تیزی آئی تو ہندوستان میں بھی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ دام اتنا بڑھا کہ دس گرام سونے کی قیمت آٹھ ہزار نو سو روپے تک پہنچ گئی۔ یہ قیمت گزشتہ پچیس برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس مہینے کے اواخر میں شادیوں کا شگون ہے اور اندازہ ہے کہ یہ قیمت ابھی اور اوپر جا سکتی ہے۔
جیولرز کا کہنا ہے کہ اس وقت صرف وہی لوگ سونا خرید رہے ہیں جن کے یہاں شادی ہے۔ ظاہر ہے باقی لوگوں کے لیئے یہ سونا خریدنے کا وقت نہیں ہے۔
یہ کیسی دیوانگی
![]() | |
| ادا کار راج کمار کی موت پر یہ کیسا سوگ؟ پولیس کو کیا کیا نہ کرنا پڑا |
پورا بنگلور شہر دو دنوں تک بند رہا۔ شہر کے مجموعی نقصان کا اندازہ سات سو کروڑ روپے سے زیادہ کا لگایا گیا ہے۔ صرف سافٹ ویئر کمپنیون کو ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ لوگ حیران ہیں کہ غم کے اظہار اور خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ کون سا طریقہ ہے۔