Tuesday, 11 April, 2006, 08:51 GMT 13:51 PST
نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلّی
انڈیا کے شہر میرٹھ میں گزشتہ روز ایک میلے میں آگ لگنے کے واقعے میں پچاس لوگوں کی ہلاکت کے بعد پولیس نے منتظمین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
سول لائن پولیس اسٹیشن میرٹھ کے انسپیکٹر آر پی سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ میلے مے تین منتظمین لکھن تومار، سدراتھ ملوتھرا اور اسِت گپتا کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان تینوں منتظمین کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 304 اے، 337، 338، اور 427 کے تحت مقدمات درج کرلیئے گئے ہیں۔
آتشزدگی کے وقت اس تجارتی میلے میں شرکت کے لیئے دو ہزار سے زیادہ لوگ جائے وقوعہ پر موجود تھے۔
میرٹھ پولیس کے ترجمان گووند سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ آگ’شارٹ سرکٹ‘ کی وجہ سے لگی تھی اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
![]() | |
| علاقے میں ایک کہرام برپا دکھائی دیتا ہے |
آگ مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے لگی۔ آگ لگنے کے بعد بیس فائر بریگیڈ آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں لگے رہے جبکہ اس دوران ایمبولینسیں ہلاک شدگان اور زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں تک پہنچاتی رہیں۔
آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے لیکن آگ انتہائی تیزی سے لگی اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے تینوں پنڈالوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ٹی وی پر نشر ہونے والے مناظر میں دھوئیں کے بادل اور بڑے بڑے شعلے فضا میں بلند ہوتے دکھائی دے رہے تھے جبکہ بڑی تعداد میں زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو جلتے پنڈال سے باہر نکال کر ہسپتال لے جایا جارہا تھا۔
بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق جائے وقوعہ پر سینکڑوں افراد جمع ہو گئے تھے جو اپنے ان عزیز و رشتہ داروں کی تلاش میں تھے جو اس میلے میں شرکت کے لیئے آئے تھے۔
آتشزدگی کے بعد علاقے میں نیم فوجی دستے بھی تعینات کردیئے گئے تھے۔