Monday, 10 April, 2006, 13:53 GMT 18:53 PST
نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلّی
انڈیا کے شہر میرٹھ میں گزشتہ روز ایک میلے میں آگ لگنے کے واقعے میں پچاس لوگوں کی ہلاکت کے بعد پولیس نے منتظمین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
میرٹھ میں آتشزدگی کی تصاویرسول لائن پولیس اسٹیشن میرٹھ کے انسپیکٹر آر پی سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ میلے مے تین منتظمین لکھن تومار، سدراتھ ملوتھرا اور اسِت گپتا کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان تینوں منتظمین کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 304 اے، 337، 338، اور 427 کے تحت مقدمات درج کرلیئے گئے ہیں۔
لکھنؤ سے بی بی سی کے نمائندے رام دت ترپاٹھی نے اترپردیش کے وزیرِاعلٰی کے دفتر کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب تک پچاس لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
میرٹھ پولیس کے ترجمان گووند سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ آگ’شارٹ سرکٹ‘ کی وجہ سے لگی ہے اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
![]() | |
| علاقے میں ایک کہرام برپا دکھائی دیتا ہے |
آگ مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے لگی۔ آگ لگنے کے بعد بیس فائر بریگیڈ اگ پر قابو پانے کی کوششوں میں لگے رہے جبکہ اس دوران ایمبولینسیں ہلاک شدگان اور زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں تک پہنچاتی رہیں۔
آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے لیکن آگ انتہائی تیزی سے لگی اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے تینوں پنڈالوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ٹی وی پر نشر کی جانے والی رپورٹ میں علاقے میں ایک کہرام پرپا دکھائی دیتا ہے۔ دھویں کے بادل اور بڑے بڑے شعلے فضا میں اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو جلتے پنڈال سے باہر نکال کر ہسپتال لے جایا جارہا ہے۔
بی بی سے کے ایک نامہ نگار کے مطابق جائے وقوعہ پر سینکڑوں افراد جمع ہیں جو اپنے ان عزیز و رشتہ داروں کی تلاش میں آئے ہیں جو اس میلے میں شرکت کے لیئے آئے تھے۔
علاقے میں نیم فوجی دستے بھی تعینات کردیئے گئے ہیں۔