Thursday, 06 April, 2006, 13:23 GMT 18:23 PST
انڈیا کی ریاست اترپردیش کے شہر علیگڑھ میں ہندو مسلم تصادم ميں دو
لوگ ہلاک اور کم از کم چھ افراد زخمی ہوگئے۔
کشیدگی کو دیکھتے ہوئے پرانے شہر کے کوتوالی، دلی گیٹ اور سسنی گیٹ پولیس تھانوں کی حدود میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
یوپی کے محکمۂ پولیس سربراہ بوا سنگھ نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد پوری ریاست میں ہائی الرٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے اور ماحول پرامن رکھنے کے لیئے تمام ضروری اقدامات کیئے جا رہے ہيں۔
علی گڑھ پولیس کے اعلٰی اہلکار اجے آنند نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی رات ایک مندر کو سجانے کے معاملے پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تنازعہ کھڑا ہوگیا اور حالات کشیدہ ہو گئے ۔ یہ مندر ہندوؤں کے بھگوان رام کی یوم پیدائش’ رام نومی‘ کے موقع پر سجایا جا رہا تھا۔
اجے آنند کا کہنا تھا کہ پولیس اور ’ریپڈ ایکشن فورسز‘ کی مدد سے حالات پر قابو پا لیا گیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں امن وامان کے قیام کے لیئے سخت حفاظتی انتظامات کیئےگئے ہیں۔
پولیس کے مطابق جمعرات کے روز بھی ہندوؤں کے مجمع پر علاقے کی ایک مسجد سے پتھراؤ کیا گیا ہے لیکن اب تک یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ اس پتھراؤ میں کوئی زخمی ہوا ہے یا نہیں۔
ماضی میں بھی علی گڑھ میں کئی بار ہندو مسلم فساد ہو چکے ہیں اور فرقہ وارانہ اعتبار سے اس ضلع کو کافی حساس مانا جاتا ہے ۔