Monday, 03 April, 2006, 11:48 GMT 16:48 PST
سبیر بھومک
گوہاٹی
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیئے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔
پہلے مرحلے میں ریاست کے 126 میں سے 65 حلقوں کے لیئے ووٹ ڈالے جائيں گے۔
صبح سات بجے سے ہی پولنگ بوتھوں پر بڑی تعداد میں لوگ قطاروں میں کھڑے تھے۔ ان میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔
ریاست میں کانگریس اقتدار میں ہے اور اس کا مقابلہ ایک علاقائی جماعت اسوم گن پریشد، بھارتیہ جنتا پارٹی اور مسلمانوں کی ایک نئی جماعت یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ سے ہے۔
الفا کے ترجمان روبی بھویان |
لیکن دوسری جانب اسوم گن پریشد کانگریس کی حکومت گرانے کا دعوی کر رہی ہے۔ پارٹی کے ترجمان اپوربا کمار بھٹّا چاریہ کا کہنا ہے کہ ’ہماری حکومت واپس آنے والی ہے خواہ اس کے لیئے دوسری چھوٹی جماعتوں کی حمایت ہی حاصل کرنی کیوں نہ پڑے۔‘
حزب اختلا ف کی جماعت بی جے پی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ اسمبلی میں اپنے ارکان کی تعداد بڑھانے میں کامیاب ہو گی۔ پارٹی کے رہمنا وی ستیش کا کہنا تھا ’خواہ ہم اپنے زور پر حکومت بنانے کی حالت میں نہ ہوں لیکن ہمیں اتنی نشستیں ملیں گی کہ جس کی بھی حکومت بنے گی وہ ہمیں نظر انداز نہیں کر سکيں گے۔’بی جے پی نے کہا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر اسوم گن پریشد کی حمایت کرنے کے لیئے بھی تیار ہے۔
اس دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزير اعظم کے خلاف انتخابی کمیشن میں شکایت کی ہے۔ شکایت کی اس عرضی ميں کہا گیا ہے کہ وزير اعظم نے آسام کے انگلونگ ضلع کے بے گھر قبائلیوں کے لیئے امداد کے منصوبے کا اعلان کر کے انتخابی ضابطہ احلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔
![]() | |
| وزیر اعظم راجیہ سبہا میں آسام سے منتخب ہو کر آئے ہیں |
بی جے پی نے علحیدگی پسند تنظیم ’الفا‘ سے امن مذاکارت جاری رکھنےکا وعدہ کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ مذاکرات کئی باغی رہنماؤں کی ہلاکت کی وجہ سے مشکلات سے دو چار ہيں۔ ایک بیان میں الفا کے ترجمان روبی بھویان نے کہا تھا کہ ’حکومت کو فوجی کارروائی یا امن مذاکرات میں سے کوئی ایک راستہ منتخب کرنا ہو گا کیوں وہ دونوں کام ایک ساتھ نہیں کر سکتی۔‘
لیکن کانگریس کو سب سے زیادہ امیديں روایتی طور پر ان کی حمایت کرنے والے مسلمان طبقے اور چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدوروں سے ہے۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے بعد ریاست آسام میں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ریاست کی آبادی کا تقریباً 28 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ جبکہ چائے کے باغات کے مزدوروں کی تعداد چالیس فی صد ہے۔ ریاست میں بنگلہ دیش سےآنے والےغیر قانونی تارکین وطن کا معاملہ ا ایک بڑا مسئلہ ہے۔
بنگالی بولنے والے لوگوں کی شہریت کا تعین کرنے سے متعلق مرکزی حکومت کے ایک قانون کو حال میں سپریم کو رٹ نےغیر آئینی قرار دے کرخارج کر دیا تھا۔ مقامی مسلمانوں کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ انہیں ماضی کی طرح مستقبل میں بھی کہیں غیر قانونی تارکین وطن کے نام پر ہراساں نہ کیا جاۓ۔
نوتشکیل کردہ یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے کانگریس پر الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کو صرف نا امید کیا ہے۔
لیکن یونائٹڈ فرنٹ کے چیئرمین بدرالدین اجمل نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’یو ڈي ایف کم از کم پندرہ نشستوں پر فتح حاصل کرے گی اور حکومت بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرے گی لیکن ہم نہ تو کانگریس کی حمایت کریں گے اور نہ ہی بی جے پی کی۔‘
بوڈو قبیلے سے تعلق رکھنے والوں کی ایک چھوٹی جماعت بھی مغربی آسام ميں کچھ نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔ بوڈو قبیلہ گزشتہ 25 برس سے خود مختار ریاست کا مطالبہ کر رہا ہے۔
آسام کے علاوہ ملک کی تین دیگر ریاستوں اور ایک یونئن ٹریٹری میں بھی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہيں۔ ان میں مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیریلا اور یونئن ٹیرٹری پا نڈیچری شامل ہیں۔