http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 30 March, 2006, 10:30 GMT 15:30 PST

صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی

ایڈز کے پھیلاؤ میں کمی

بھارت اور کینیڈا کے سائنس دانوں کی ایک مشترکہ ٹیم نے کہا ہے کہ جنوبی ہندوستان کے کئی علاقوں میں ایچ آئی وی کی وباء میں کمی آئی ہے۔

انڈیا میں ایڈز کے 50 لاکھ مریض

اس ٹیم کی ریسرچ کے مطابق ایڈزسے بچنے کے لیے محفوظ جنسی تعلقات (سیف سیکس) کی جو مہم چلائی گئی تھی اسکے خاطر خواہ نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

اب تک دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں پچاس لاکھ سے زیادہ لوگ ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہیں جس میں سے پچھتر فیصد لوگوں کا تعلق جنوبی ہندوستان سے ہے۔

ایک برطانوی میڈیکل میگزین لینسیٹ نے سروے کی تفصیلات شائع کی ہیں جسکے مطابق تمل ناڈو، مہاراشٹر، کرناٹک اور آندھرا پردیش کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ایچ آئی وی وباء میں ایک تہائی کمی آئی ہے۔

جنوبی بھارت میں ایڈز پھیلنے کی اہم وجہ جسم فروشی ہے جس کے سبب میاں بیوی اور بچے سبھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس کی روک تھام کے لیے حکومت عالمی بینک اور بعض سرکاری تنظیموں نے مشترکہ طور پر سیف سیکس کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کی مہم شروع کی ہوئی ہے۔

ریسرچ ٹیم میں شامل پروفیسر پربھات جھا کا کہنا ہے کہ ابتداء میں لوگوں کو شک تھا کہ شاید اس طرح کی مہم زیادہ کارگر ثابت نہ ہو لیکن حالیہ جائزے سے پتہ چلا ہے کہ سیف سیکس بیداری مہم کامیاب رہی ہے۔

مسٹر جھا نے بتایا کہ ’قیاس آرائیوں پر مبنی اس طرح کی پیش گوئیاں کی جارہی تھیں کہ جنوبی افریقہ کی طرح ہندوستان میں ایڈز پر قابو پانا دشوار ہوجائے گا۔ لیکن اب ہمارے پاس مثبت ثبوت موجود ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اچھی خبر یہ ہے کہ نوجوانوں میں ایچ آئي وی کے پھیلاؤ میں کمی آرہی ہے۔ شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ جسم فروشی میں کمی ہے یا پھر وہ کنڈوم کا استعمال کرتے ہیں‘۔

سروے کے مطابق شمالی ہندوستان میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے لیکن ابھی وہاں جائزے مرتب کیے جا رہے ہیں۔

ریسرچ ٹیم نے مختلف دواخانوں میں علاج کرانے والی دو لاکھ چورانوے ہزار پچاس خواتین اور اٹھاون ہزار سات سو نوے مردوں کے کیس سٹڈی کیے ہیں۔

سٹڈی ٹیم کے ہیڈ پروفیسر راجیش کمار تھے۔ پروفیسر کمار کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کی وباء میں کمی ایک بہتر رجحان ہے لیکن ایڈز ہندوستان میں اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے جس پر سخت نگرانی رکھنی ہوگی۔ ’ہم یہ نہیں کہ رہے ہیں کہ اس وباء پر قابو پا لیا گيا ہے ہمارا یہ کہنا ہے کہ جہاں زیادہ خطرہ ہے وہاں احتیاطی تدبیریں موثر ثابت ہورہی ہیں‘۔