Tuesday, 28 March, 2006, 15:02 GMT 20:02 PST
امرناتھ تیواری
پٹنہ
بہار کی حکومت نے ریاست میں جرائم پر قابو پانے کی غرض سے ایک انوکھی سکیم متعارف کرائی ہے جس کے تحت مجرموں کو ہتھیار ڈالنے اور جرم چھوڑنے پر آمادہ کرنے کے لیے مالی معاوضے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔
جرائم کے اعتبار سے بہار ملک کی بدترین ریاست تصور کی جاتی ہے ۔ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق یہاں ہر دوگھنٹوں میں اوسطاً ایک قتل ہوتا ہے ، ہر چھ گھنٹوں میں ایک آبروریزی اور ہر روز ایک بینک لوٹا جاتاہے ۔
نئی سکیم کے تحت حکومت نے ہتھیار ڈالنے کے لیے مجرموں کو دس دس ہزار روپوں کی پیشکش کی ہے۔ ساتھ ہی ہتھیار ڈالنے والے کو ہر مہینے الاؤنس کے طور پر تین ہزار روپے دیے جائیں گے۔
یہی نہیں بلکہ ہتھیار ڈالتے وقت جرائم پیشہ افراد جو ہتھیار جمع کرائیں گے حکومت ان کا بھی معاوضہ دے گی۔
سکیم کے ساتھ ہتھیاروں کے جو ریٹ طے کیے گۓ ہیں ان کے مطابق راکٹ لانچر، لائٹ مشین گن اور رائفل کے لیے پچیس ہزار روپے، اے کے 47 کے لیے پندرہ ہزار اور پستول، ریوالور اور پرانی رائفلو ں کے لیے تین ہزار روپے دیے جائیں گے۔
یہ سکیم بظاہر کامیاب ہوتی ہوئی نظر آتی ہے کیونکہ اس کے تحت سپول اور مدھیہ پورہ میں 191 مجرم وزیراعلی نتیش کمار کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ان مجرموں نے معاوضے لے کر تقریبا 90 ہتھیار بھی جمع کرائے ہیں۔
بہار میں ہتھیاروں کے ریٹ |
وزیراعلی نتیش کمار کا کہنا ہے کہ مجرموں کو پیسے دے کر خود کو قانون کے حوالے کرنے پر آمادہ کرنے کی یہ سکیم ریاست کی امن و قانون کی خراب صورتحال کو قابو میں کرنے کا ایک راستہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس کے ذریعے مجرموں کو یہ پیغام پہنچانا ہے کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کر دیں ورنہ پولیس ان کا خاتمہ کرے گی۔ اس پیغام کے نتیجے سامنے آنے لگے ہیں‘۔
نتیش کمار نومبر میں وزیراعلی کے عہدے پر فائز ہوئے تھے اور پولیس کے مطابق ان کے پہلے 100 دن کے اقتدار کے دوران ریا ست میں اغوا کی 141 وارداتیں اور400 قتل ہوئے۔
امن و قانون کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ بہار کو ہندوستان میں اغواء کا دارالحکومت کہا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق 1992 سے ریا ست میں اغواء کی تیس ہزار سے زیادہ وارداتیں ہو چکی ہیں۔
حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کی نئی پا لیسی کی مخالفت کر رہی ہیں۔ راشٹریہ جنتا دل کے سینیر رہنما شکونی چودھری نے اسکیم کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا ’جرم کرو، ہتھیار ڈالو اور حکومت سے تین ہزار روپے کی تنخواہ لو‘۔
تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جرم کی زندگیاں ختم کرنے کے ایک وسیع تر پروگرام کا حصہ ہے ۔
بہار پولیس کے سربراہ ابھیانند نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے ہتھیار ڈالنے والے ہر مجرم کو سے نئی زندگی شروع کرانے کے لیے دو لاکھ روپے کی رقم مختص کی ہے۔ اس رقم کا ایک تہائی حکومت دے گی جبکہ باقی بینک قرض کی شکل میں دیں گے۔
ڈائریکٹر جنرل پولیس نے یہ بھی بتایا کہ یہ رقم ایک بینک میں جمع کی جائے گی جو ہتھیار ڈالنے والے مجرم اور اس کے گھر کے کسی فرد کے مشترکہ کھاتے میں رہے گی۔ اس کھاتے سے ہر مہینے کتنی رقم نکالی جا سکتی ہے اس کی بھی ایک حد مقرر کی گی ہے۔
اغواؤں کا دارالحکومت |
کئی تجزیہ کاروں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے اس طرح کی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لئے بہت سے شریف لوگ جرم کا رخ کر سکتے ہیں لیکن پولیس کے سربراہ ابھیا نند کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حالات سے بچنے کے لیے حکومت ہتھیار ڈالنے والے مجرموں کی تفصیلات کا بغور جائزہ لے گی۔ ’یہ بات یاد رکھیے کہ ہتھیار ڈالنے والے مجرموں کو ہر حال میں عدالت کا بھی سامنا کرنا ہوگا‘۔