http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 26 March, 2006, 15:31 GMT 20:31 PST

ایم ایس احمد
پٹنہ

جھاڑ کنڈ حکومت خطرے میں

جھارکھنڈ کی ارجن منڈا سرکار رہے گی یا جائےگی؟ اس سوال کوجاننے میں ہو سکتا ہے چند دن لگ جائیں لیکن منفعت بخش عہدوں کا معاملہ کتنے خسارے کا ہے اس کا احساس دلی سے زیادہ شائد رانچی میں ہو رہا ہے۔

رانچی میں اقتدار کا توازن اس قدر نازک ہے کہ اسمبلی کے ایک یا دو ممبران کی رکنیت ختم ہونے سے پوری حکومت جا سکتی ہے اور حزبِ اختلاف دوہرے عہدے سے مستفید ہونے کے معاملے میں پانچ اراکین بشمول وزیرِاعلٰی ارجن منڈا کی برخاستگی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

حکمراں اتحاد این ڈی اے کے لیئے یہ معاملہ کس قدر مشکل ہے اس کا اندازہ شاید اس بات سے لگ سکتا ہے کہ جمعہ کو حکومت نے حزب اختلاف کے زبردست شور شرابے کے درمیان محض چند منٹوں میں ہی ’پریونشن آف ڈسکوالیفیکیشن بل‘ کے علاوہ آدھا درجن محکموں کے بجٹ پاس کرا لیئے اور غالباً اسی لیئے حزبِ اختلاف نے خود کو مطالبے تک محدود نہ رکھا بلکہ اپنا غصہ ایوان کی کرسیوں اور میزوں پر بھی نکالا۔

حزبِ اختلاف ارجن منڈا کی برخاستگی کا مطالبہ اس بنا پر کر رہی ہے کہ وہ ’تینو گھاٹ پاور کارپوریشن لیمیٹڈ‘ کے چیئرمین ہیں۔ اسی طرح ایک اور ایم ایل اے چھترو رام مہتو ’ایگریکلچر مارکیٹنگ بورڈ‘ کے چیئرمین تھے۔

سینئر صحافی سندیپ کمل بتاتے ہیں کہ چھترو رام کی رکنیت سب سے زیادہ خطرے میں ہے اور اس سے جھارکھنڈ کی سیاسی صورت حال اچانک بدل سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت نے بل لا کر اپنے حامی ارکان کی رکنیت بچانے کی چال چلی ہے مگر اس کی کامیابی کی امید کم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسی ہی کوشش اتر پردیش میں ملائم سنگھ کی حکومت نے کی تھی مگرگورنر نے بل منظور نہیں کیا اور جیہ بچن کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم ہوگئی۔ وہ کہتے ہیں کہ جھارکھنڈ کے گورنر صبط رضی پہلے ہی حکمراں جماعت سے نالاں ہیں۔

دریں اثنا حزب اختلاف بھی اسی حکمت عملی کو دہرانے کی تیاری میں ہے جس کا سہارا شبوسورین کی حکومت کو معزول کرانے میں این ڈی اے نے لیا تھا۔ حزب اختلاف کے اتحاد یو پی اے کے ممبران اتوار کو انڈیا کے صدر اے پی جے عبدالکلام اور الیکشن کمیشن کے اہلکار سے ملاقات کر کے حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کریں گے۔

جھارکھنڈ اسمبلی میں کل بیاسی ممبر ہیں۔ حکومت بی جے پی کے تیس، جےڈی یو کے چھ، اے اے جے ایس یو کے دو اور چار آزاد امیدواروں کو ملا کر کل تینتالیس ایم ایل اے کے سہارے چل رہی ہے۔ دوسری جانب حزب اختلاف کے پاس کل انتالیس ارکان اسمبلی ہیں۔اس میں جے ایم ایم کے سترہ، کانگریس کے نو، جے ڈی یو کے سات اور چھ دیگر ارکان ہیں۔