Saturday, 25 March, 2006, 10:13 GMT 15:13 PST
بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں تیرہ شخص ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔
ضلعی پولیس سربراہ پردیپ گپتا نے کہا ہے کہ ماؤ باغیوں کی جانب سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگ کے ساتھ ایک جیپ ٹکرا گئی جس میں مقامی تاجروں کا ایک وفد سفر کر رہا تھا۔
انڈیا کی مرکزی اور جنوبی ریاستوں میں پچھلے تیس سال میں ماؤ نواز باغیوں کی کارروائیوں میں ہزاروں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
حالیہ حملہ اس وقت کیا گیا جب مقامی تاجر ایک گاؤں میں میٹنگ کر کے واپس آ رہے تھے۔
ماؤ نواز باغیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ضلعی پولیس چیف کا کہنا ہے کہ ماؤ باغیوں نے شاید اس گاڑی کو کو سرکاری گاڑی سمجھ کر حملہ کیا تھا۔
اسی مہینے ماؤ باغیوں کے ایک اور حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور تیس سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔
ماؤ نواز باغی ان لوگوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں جن پر ان کو سرکار کی مخبری کرنے کا شک ہوتا ہے۔
فروری 2006 میں بھی ماؤ باغیوں کے ایک حملے میں پچیس لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔
انڈیا کی حکومت کا خیال ہے کہ اس وقت دس ہزار ماؤ باغی پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
ریاست چھتیس گڑھ کے سولہ ضلعوں میں ماؤ نواز باغیوں کی اثرو رسوخ بہت زیادہ ہے۔