http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 20 March, 2006, 11:56 GMT 16:56 PST

بارودی سرنگ کا دھماکہ، دو ہلاک

انڈین ریاست چھتیس گڑھ میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور کم از کم دس افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی اہلکاروں کا ایک ٹرک ریاستی دارالحکومت رائے پور سے 110 کلومیٹر دور واقع واجنندگاؤں کے مضافات سے گزر رہا تھا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بارودی سرنگ ماؤنواز باغیوں نے بچھائی تھی۔

گزشتہ کئی مہینوں سے ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤ نواز باغیوں نے مختلف حملوں میں متعدد پولیس والوں کو ہلاک کیا ہے۔ گزشتہ دنوں ان باغیوں نے عام شہریوں پر بھی حملے کئے ہیں۔ یہ باغی عام طور پر انہیں پولیس کا مخبر قرار دیتے ہیں۔

مارچ کے آغاز میں ہی ریاست کے دانتے وازہ ضلع میں ان باغیوں نے ایک بس پر حملہ کیا تھا جس میں چھ افراد ہلاک اور کم از کم 33 لوگ زخمی ہوگئے تھے۔
اس کے چند روز بعد ہی ان باغیوں نے اسی علاقے میں ریل کا ایک انجن بم سے اڑا دیا تھا۔اس سے قبل فروری میں باغیوں نے دو بسوں کو بم سے اڑا دیا تھا جس میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ماؤ نواز تحریک آندھرا پردیش، مہاراشٹر، اڑیسہ، چھتیس گڑھ، اتر پردیش، جھارکھنڈ اور بہار کے قبائلی اور پسماندہ علاقوں میں مقبول ہے۔ ماؤ نوازوں کا کہنا ہے کہ وہ قبائلی اور غریب لوگوں کے حقوق کے لئے انتظامیہ اور مقامی زمینداروں کے خلاف جدو جہد کر رہے ہیں۔

انڈین حکومت کے مطابق مسلح ماؤنواز باغیوں کی تعداد تقریبا دس ہزار ہے اور ان کی یہ تحریک تقریباً تیس برس پرانی ہے اور اب تک اس تحریک کے سبب ہزاروں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

چھتیس گڑھ کی حکومت نے مقامی باشندوں کو اغوا کرنے یا پھر انہیں ہلاک کرنے والے ماؤ نواز باغیوں کے خلاف ایک مہم شروع کی ہے۔ اس سلسلے میں متاثرہ افراد کے لیئے کیمپ لگائے گئے ہیں۔ بہت سے لوگ اب تنگ آ کر حکومت کے بنائے ہوئے کمیپوں کا رخ کر رہے ہیں۔ چھتیس گڑھ کے حکام کے مطابق فی الوقت پنتالیس ہزار افراد ان کیمپوں میں رہ رہے ہیں جن میں بیشتر قبائلی ہیں۔