Sunday, 19 March, 2006, 18:16 GMT 23:16 PST
ریحانہ بستی والا
ممبئی
مہاراشٹر کی علاقائی پارٹی شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کے بھتیجے راج ٹھاکرے نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی آنے والے دنوں میں بدعنوان افسران کے خلاف مہم چلائے گی۔
راج ٹھاکرے نے 'نو نرمان سینا‘ کی پہلی ریلی سے شیواجی پارک میں خطاب کرتے ہوئے اپنی ساری زندگی مہاراشٹر کے لیئے وقف کر نے کا اعلان کیا۔
اس ریلی میں شرکت کے لئے پورے مہاراشٹر سے آئے دو لاکھ سے زیادہ کے مجمع سے خطاب میں راج ٹھاکرے نے نئی پارٹی کے اصولوں کو واضح کیا اور ریاست کی ترقی کے لیئے ہر فرقہ اور ہرطبقے کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کا عہد کیا۔
راج ٹھاکرے نے مہاراشٹر کی ترقی کی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسانوں کو پینٹ شرٹ میں ٹریکٹر چلاتے دیکھنا چاہتے ہیں۔
راج نے ریاست کے تعلیم نظام پرسخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس تعلیم سے بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔
![]() | |
| راج ٹھاکرے پارٹی ریلی کے موقع پر |
موجودہ حکومت پر تنقید کرنے کے ساتھ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ سکولوں، باغوں اور کالجوں کے لیئے مختص زمین کو بلڈروں کے ہاتھ فروخت ہونے نہیں دیں گے۔
اپنی تقریر میں انہوں نے صدر جمہوریہ ہند عبدالکلام اور کرکٹر عرفان پٹھان کا نام لے کر کہا کہ مسلمانوں میں بہت سے اچھے لوگ ہیں اس لیئے چند برے لوگوں کے لیئے اچھے لوگوں کا ساتھ نہیں چھوڑا جانا چاہیئے۔
راج ٹھاکرے کی اس ریلی پر صرف مہاراشٹر ہی نہیں سارے ملک کے سیاست دانوں کی نظریں تھیں کیونکہ اس سے ملک کے سیاسی منظر نامہ کے بدلنے کے امکانات ہیں۔
سیاسی مبصرین نے ریلی میں عوام کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت پر حیرت کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق کسی کو توقع نہیں تھی کہ لوگ اتنی بڑی تعداد میں یہاں جمع ہوں گے۔
مبصرین کا کہنا کہ اتنی بڑی تعداد دراصل اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ علاقائی مراٹھی لوگ شیوسینا سے بددل ہیں اور وہ عرصہ سے تبدیلی کا انتظار کر رہے تھے۔
![]() | |
| راج ٹھاکرے کی ریلی میں عوامی شرکت |
انہوں نے حیرت ظاہر کی کہ شیوسینا کا یہ جوان لیڈر ہمیشہ زور آزمائی اور تشدد کے ذریعہ اپنی بات منوانے میں یقین رکھتا تھا لیکن آج اس نے بہت ہی سلجھے ہوئے انداز میں ایک منجھے ہوئے سیاسی لیڈر کی طرح بات کی ہے۔
ممبئی میونسپل کارپوریشن جو ایشیا کی سب سے بڑی اور امیر کارپوریشن ہے۔ اس کے انتخابات آئندہ برس فروری میں ہوں گے اور یہ الیکشن پوری ریاست مہاراشٹر کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
راج ٹھاکرے کی ریلی نے بہت سی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی نیندیں ضرور اڑا دی ہوں گی۔