Saturday, 11 March, 2006, 11:26 GMT 16:26 PST
ریحانہ بستی والا
ممبئی
مہاراشٹر کے رہائشی ڈاکٹروں کی ہڑتال ان کے مطالبات کی منظوری کے بعد ختم ہو گئی اور ممبئی پونے اورنگ آباد اور دیگر اضلاع کے تقریباً سات ہزار ڈاکٹر آج سے ڈیوٹی پر واپس جا رہے ہیں۔
جمعہ کی دوپہر سے منترالیہ میں ہیلتھ افسران، وزیر صحت و تعلیم دلیپ ولسے پاٹل اور رہائشی ڈاکٹروں کے درمیان میٹنگ جاری تھی ۔ ڈاکٹروں نے اپنے تحفظ کے ساتھ اپنے ماہانہ گزارہ الاؤنس میں آٹھ سے اٹھارہ ہزار کا مطالبہ کیا تھا۔
رات ڈیڑھ بجے متفقہ طور پر فیصلہ ہوا کہ ساڑھے بارہ ہزار سے تیرہ ہزار روپے ماہانہ بھتہ دیا جائےگا۔ حکومت نے کابینہ میں ڈاکٹروں کو عوامی خدمت گار کا عہدہ دینے پر تجویز پیش کرنے کی بات قبول کی تاکہ پھر اگر ڈاکٹروں پر حملہ ہوتا ہے تو ان افراد کے خلاف ناقابل ضمانت مقدمہ درج کیا جاسکے ۔
ڈاکٹروں نے ان کے رہائشی حالات کو بہتر بنانے اور ان کے کام کے اوقات کم کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا ۔اس بات سے متفق حکومت نے حالات کا جائزہ لینے کے لئے ایک چار رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔
ممبئی کے رہائشی ڈاکٹروں نے ہڑتال ستائیس فروری سے شروع کی تھی جبکہ ای ایم ہستال میں علاج کے لئے داخل ایک مریض کی موت کے بعد اس کے رشتہ داروں نے ایک ڈاکٹر کی مبینہ طور پر پٹائی کر دی تھی۔
ہڑتال میں ممبئی کے بعد پونے اور مہاراشٹر کے دیگر اضلاع کے ڈاکٹر بھی شامل ہو گئے تھے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن اور حکومت کے ماتحت چلنے والے ہسپتالوں کی انتظامیہ نے سخت رویہ اپناتے ہوئے آٹھ سو سے زائد ڈاکٹروں کا رجسٹریشن منسوخ کر دیا تھا اور نئے ڈاکٹروں کی بھرتی بھی شروع ہو گئی تھی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان ڈاکٹروں کے مستقبل پر فیصلہ جلد ہی لے گی لیکن مہاراشٹر ریذیڈینٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (مارڈ) کے ترجمان ڈاکٹر یشودھن دیشپانڈے نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سارے ڈاکٹر بھی ان کے ساتھ آج سے ڈیوٹی دے رہے ہیں جن کا رجسٹریشن منسوخ کیا گیا تھا۔ حکومت نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ سارے فیصلے واپس لئے جا چکے ہیں ۔