Friday, 10 March, 2006, 08:59 GMT 13:59 PST
نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
بھارتی پولیس نے ان دو مشتبہ افراد کی پورے ملک میں تلاش شروع کر دی ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انہوں نے ہندوؤں کے مقدس شہر بنارس میں بم دھماکے کیے ہیں۔ ان بم دھماکوں میں کم از کم چودہ افراد ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔
پولیس نے دکاندار کی طرف سے مہیا کی گئی معلومات سے ان دو افراد کے خاکے بنائے ہیں۔ دکاندار نے یہ بھی بتایا ہے کہ دونوں مشتبہ بمباروں کی ہندی کوئی اتنی اچھی نہیں تھی۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پولیس سپرنٹینڈنٹ نونیت سِکیرا نے کہا ہے کہ وہ دونوں مشتبہ اشخاص کی عمریں بیس برس کے قریب ہیں اور دونوں کا تعلق کشمیر کے علاقے سے لگتا ہے۔
![]() | |
| واراناسی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے |
یشپال سنگھ نے کہا ہے کہ ’دو روز کی تحقیقات کے بعد جو سراغ حاصل ہوئے ہیں اس سے لشکر طیبہ پر شک مضبوط ہوتا جا رہا ہے‘۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں ’امونیم نائٹریٹ‘ جیسے طاقتور مادے کا استمعال کیا گیا ہے جو عام طور پر لشکر طیبہ گروپ اپنے حملوں میں استعمال کرتی ہے۔
بی بی سی کے نمائندے سنجے ماجومدار کے مطابق ماضی میں بھی اس قسم کے دھماکوں کا الزام اسلامی تنظیموں اور خصوصاً کشمیر میں بھارتی راج کے خلاف مزاحمت کرنے والی تنظیموں پر لگتا رہا ہے۔ تاہم جہاں یہ تنظیمیں بھارتی حکومت کی تنصیبات اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی ذمہ داری فوراً قبول کر لیتی ہیں وہیں انہوں نے کبھی بھی سویلین لوگوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
جمعہ کے روز بنارس شہر میں فوج اور پولیس گشت کرتی رہی تاہم وہاں زندگی معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔
بم دھماکوں کے بعد ہندوؤں اور مسلمانوں نے شہر میں امن اور شانتی کی اپیل کی ہے۔
جمعرات کی شب دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے تقریباً سو کے قریب تاجروں نے شہر میں موم بتیاں اٹھائے ایک جلوس نکالا اور امن کی اپیل کی۔
ایک تاجر امیر علی نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کئی ایسے گروہ ہیں جو لوگوں کو اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں کوئی تشدد نہیں چاہیئے‘۔