Wednesday, 08 March, 2006, 08:59 GMT 13:59 PST
شکیل اختر
بی بی سی، دلی
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے بیسٹ بیکری مقدمے کی اصل گواہ ظاہرہ شیخ کو اپنا بیان بدلنے اور عدالت میں جھوٹ بولنے کے جرم میں ایک سال کی قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے ظاہرہ کے بینک کھاتوں اور اثاثوں کو سیل کرنے کا حکم دیا ہے ۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں قید کی سزا مزید ایک سال کے لئے بڑھا دی جائے گی ۔
بڑودہ کے انکم ٹیکس کمشنر کو ظاہرہ اور اس کے گھر والوں کی جائداد اور بینک کھاتوں کی جانچ کا حکم دیا ہے۔
بی جے پی کے مقامی ارکان اسمبلی مدھو شریواستو کی جانچ کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ سزا ایک اعلٰی اختیاراتی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر سنائی ہیں جس نے ظاہرہ کو جھوٹ بولنے کا مرتکب قرار دیا تھا۔
چار برس قبل گودھرا کے ٹرین کے وا قعہ کے بعد گجرات میں ہونے والے فسادات میں بڑودہ میں واقع بیسٹ بیکری کو فسادیوں نے جلا کر راکھ کر دیا تھا جس میں ظاہرہ کے اپنے کئی رشتے دار سمیت 14 افراد مارے گئے تھے ۔ظاہرہ اس معاملے کی چشم دید گواہ تھی ۔
بڑودہ کی مقامی عدالت نے اس معاملے کے سبھی ملزموں کو ناکافی ثبوت کے سبب رہا کر دیا تھا- بعد میں ظاہرہ نے کہا تھا کہ وہ دھمکیوں اور خوف کے سبب عدالت میں ملزمون کے خلاف بیان نہیں دے سکی تھیں۔
چار برس قبل گودھرا کے ٹرین کے وا قعہ کے بعد گجرات میں ہونے والے فسادات میں بڑودہ میں واقع بیسٹ بیکری کو فسادیوں نے جلا کر راکھ کر دیا تھا جس میں ظاہرہ کے اپنے کئی رشتے دار سمیت 14 افراد مارے گئے تھے ۔ظاہرہ اس معاملے کی چشم دید گواہ تھی ۔ |
اس مقدمے کے دوران ایک ویب سائٹ تہلکہ ڈاٹ کام نے ایک خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ کے بعد دعوٰی کیا تھا کہ مقامی سیاسی رہنماؤں نے ظاہرہ کو بیان بدلنے کے لئے رشوت دی تھی۔ تاہم ظاہرہ اور دیگر متعلقہ لوگوں نے اس الزام کی سختی سے تردید کی تھی ۔
عدالت نے ظاہرہ کی والدہ اور دو بھائیوں کو بھی بیان بدلنے کے الزام میں نوٹس دیا ہے اور انھیں جواب دینے کے لئے20 مارچ تک کا وقت دیا ہے۔