Friday, 03 March, 2006, 14:43 GMT 19:43 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں بش مخالف مظاہرے پر ایک تنازعے کے بعد ہندؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادت میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
مرنے والوں میں پندرہ برس کا ایک لڑکا بھی شامل ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالات کشیدہ ہیں لیکن پوری طرح قابو میں ہیں۔
یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب امریکی صدر جارج بش کے دورےکے خلاف احتجاج کے لیے بعض مسلمانوں نے ہندو تاجروں سے بھی اپنی تجارتی سرگرمیاں بند کرنے کو کہا اور زبردستی ان کی دکانیں بند کرانے کی کوشش کی۔ یہ واقعات پرانے شہر امین آباد اور وزیرآباد کے علاقے میں ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فسادات سے نمٹنے والے پولیس کے خصوصی دستے ’آر اے ایف‘ کو تعینات کیا گیا ہے۔ آٹھ زخیموں میں سے دو کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالات قابو میں ہیں اس لیے کرفیو نہیں نافذ کیا گيا ہے اور سنیچر کو تمام اسکول کالج کھلیں گے تاکہ امتحانات متاثر نہ ہوں۔
صدر بش کے بھارت دورے کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں احتجاج جاری ہیں۔ بیشتر شہروں میں مسلمانوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ دہلی کے علاوہ حیدرآباد سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں جہاں جارج بش آج ایک دن کے دورے پر گئے تھے۔