Friday, 03 March, 2006, 16:06 GMT 21:06 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلّی
امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے کہاہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات اتنے قریبی کبھی نہیں رہے جتنے کہ آج ہیں۔
دلی کے تاریخي پرانے قلعے میں اہم شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے صدر بش نے اپنے اختتامی تقریر میں کہا کہ وہ ایک دوست کے طور پر ہندوستان آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی سیاسی تلخیوں اور سرد جنگ کے حالات نے دونوں ملکوں کو دور رکھا لیکن اب صورت حال بدل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ’ہندوستان اور امریکہ کی پارٹنر شپ جمہوریت اور اقتصادی ترقی میں پوری دنیا کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے‘۔ انہوں نے اقتصادی اصلاحات اور کھلی معیشت کی حمایت کی اور کہا کہ ’ہندوستان کو محسوس کرنا چاہیے کہ دس برس قبل معیشت کے ذرا سے کھلنے سے کس طرح وہ دگنی ہوگئی ہے‘۔
انہوں نے اپنی تقریر میں گاندھی، نہرو اور ٹیگور کے مقولوں کا حوالہ دیا اور ہندوستانی کی ملی جلی ثقافت اور رواداری کی روایت کو’جمہوریت کا مستقبل اور آزاد معاشرے کی امید قرار دیا‘۔
انہوں نے شمالی کوریا اور ایران کا ذکر کرتے ہوۓ کہا کہ چند خود سر متعصبین نے اپنے عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے لیکن انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ آزادی ایک فطری عمل ہے اور اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ دونوں ملکوں کے عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیۓ کہ تاریخ ان کے ساتھ ہے‘۔
امریکی صدر نے ہند امریکہ جوہری معاہدے کا پھر ذکر کیا اور کہا کہ یہ معاہدہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان بدلتے رشتوں کا عکاس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ہندوستان کو ہی نہیں امریکہ کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ’اس معاہدے سے ہندوستان کو جوہری توانائی حاصل ہوگی اور اس کا انحصار گیس پر کم ہوگا جس سے گیس کی قیمتوں میں زبردست کمی آئےگي‘۔ صدر بش کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ جوہری ٹیکنالوجی کی توسیع پر نگرانی رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
صدر بش کی پچیس منٹ کی تقریر میں کشمیر کا کہیں ذکر نہیں آیا لیکن پاکستان کے بارے میں انہوں نے خاصی باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ہندوستان اور پاکستان دونوں سے اچھے تعلقات ہیں اور یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ صدر بش نے کہاکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک خوشحال جمہوری پاکستان نہ صرف امریکہ کے مفاد میں ہے بلکہ یہ آزادی کے لیے ایک قوت اور عرب ممالک کے لیے اعتدال پسندی کی ایک مثال ثابت ہوگا۔