Friday, 03 March, 2006, 14:25 GMT 19:25 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
مرکزی حکومت کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے اپنی حتمی رپورٹ میں بھی کہا ہے کہ گودھرا کی ٹرین میں لگنے والی آگ ایک حادثہ تھی اور باہر سے ٹرین کے ڈبے پر کوئی جلنے والا مادہ یا کیمیائی مواد پھینکنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔
سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس یو سی بینرجی اس کمیشن کی قیادت کر رہے تھے۔ کمیشن نے اپنی حتمی رپورٹ حکومت کو سونپ دی ہے۔
فروری دو ہزار دو میں گودھرا کے مقام پر ایک ٹرین میں آگ لگنے کے سبب 59 ہندو ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد مسلم مخالف فسادات میں دو ہزار لوگ مارے گئے تھے۔
اپنی حتمی رپورٹ پیش کرتے وقت بنرجی نے کہا کہ اس بارے میں مزید تحقیقات کے بعد ان کی عبوری رپورٹ کی تصدیق میں کئی نئے ثبوت و شواہد ملے ہیں اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’گودھرا میں سابرمتی ٹرین میں آگ ایک سازش کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ صرف ایک حادثہ تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ اس میں کسی سازش کا عمل دخل بھی نہیں ہے۔
بنرجی نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ جس ڈبے میں آگ لگی تھی اس میں ملازمین سوار تھے اور ان میں سے بیشتر ترشول سے مسلح تھے اس لیے ایسے ڈبے میں اندر سے بھی کسی شرارت کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ جسٹس بنرجی نے گودھرا کے اس سنگین واقعہ میں کسی سازش کو محض ذہنی اختراع یا ایک جھوٹا تصور قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابرمتی ٹرین کی کوچ ایس-چھ میں آگ اندر سے ہی لگی تھی اور غالبًا کوچ کے اندر کھانا پکانے کے لیے موجود مٹی کے تیل سے لگی تھی۔
ابھی یہ رپورٹ عام نہیں کی گئی ہے اور بحث کے لیے اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائیگا۔
گجرات پولیس کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے ایک ہجوم نے 27 فروری سن 2002 کے اس واقعہ سے پہلے ایک باقاعدہ میٹنگ کی تھی اور بعض افراد نے پٹرول خریدا اور ایک سازش کے تحت مسلمانوں کے ایک ہجوم نے گودھرا میں اس ٹرین پر حملہ کر دیا تھا۔
اس واقعے میں تقریبا ڈیڑھ سو مسلمانوں کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور سو سے زیادہ افراد جیل میں قید ہیں ۔ ان میں گودھرا کی کئی معزز ہستیاں بھی شامل ہیں۔
گودھرا کے اس واقعے کے بارے میں ابتدا سے ہی کئی حلقوں کی جانب سے گجرات پولیس کے اس خیال پر شکوک ظاہر کیے جاتے رہے ہیں کہ یہ ایک سازش تھی۔ تاہم یہ رپوٹ سیاسی رنگ بھی اختیار کر سکتی ہے۔ یہ تحقیقاتی کمیشن ریلوے کے محکمے نے تشکیل دیا ہے جس کے وزیر لالو پرساد یادو ہیں۔
گودھرا کے اس واقعہ کے بعد پورے گجرات میں مسلم مخالف فسادات ہوئے تھے جن میں غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق تقریبا دو ہزار مسلمان مارے گئے تھے۔