Wednesday, 01 March, 2006, 11:06 GMT 16:06 PST
آنند پانینی
دلی
بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنف اور کارکن ارون دھتی رائے کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں جس طرح کا غیر محفوظ ماحول پیدا ہو رہا ہے اس کے نتائج کافی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش کے ہندوستان دورے پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر بش کی آمد سے سماج کا امیر طبقہ ہی فیض یاب ہو گا۔
بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں ارن دھتی رائے کا کہنا تھا کہ یہ بے حد افسوسناک بات ہے کہ بش جیسے ’جنگی مجرم‘ کا ہندوستان میں استقبال کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق دنیا میں صرف دو ہی ملک صدر بش کا استقبال کر رہے ہیں، ایک اسرائیل اور دوسرا ہندوستان۔
صدر بش ہندوستان دورے میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کی سمادھی پر بھی جائيں گے۔ ارن دھتی کا خیال ہے کہ ’صدر بش کا وہاں جانا اور وہاں پھول چڑھانا ایسا ہی ہوگا جیسے ان کی سمادھی پر پھول کی بجائے خون ڈال دیا گیا ہو‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان موجودہ دوستی صرف سطحی ہے۔ ان کے مطابق ’جب ایک طاقتور ملک اپنے سے کم طاقتور ملک کے ساتھ کوئی معاہدہ یا سودا کرتا ہے تو طاقتور ملک اس طرح سے منصوبہ تیار کرتا ہے کہ کمزور ملک ہر طرف سے بندش میں آجائے اور زبردست دباؤ کے سبب کمزور ملک کسی بھی طرح اپنی مخالفت کا اظہار نہیں کر پاتا‘۔
ان کا کہنا ہے کہ دونوں حکومتوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے منصوبوں اور پالیسی کو ذرا بہتر انداز ميں عوام کے آگے پیش کرتی ہے۔
رائے کے مطابق ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں کو دیکھنے سے ایسا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر ہے لیکن ملک میں بیشتر مقامات ایسے ہیں جہاں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک پہنچنے کے لئے بھی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔
صدر بش کی ہندوستان آمد کے خلاف ارن دھتی رائے نے کئی تنظیموں کے ساتھ مل کر احتجاج شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمعہرات کو دلی میں ایک بڑی ریلی منعقد کی جا رہی ہے اور وہ اس میں شرکت کرنے ضرور جائيں گی۔
’ہمیں یہ تو امید نہیں ہے کہ صدر بش ہندوستان نہیں آئيں گے لیکن احتجاج میں شریک ہو کر میں اس بات کا مظاہرہ کرسکتی ہوں کہ میں بش کے استقبال میں میں شامل نہیں ہوں‘۔