http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 01 March, 2006, 12:20 GMT 17:20 PST

ریحانہ بستی والا
ممبئی

ابو سالم کا بیان، سنجےکی مشکل

مافیا سرغنہ ابو سالم نے ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے بارے میں سی بی آئی کی تحویل میں جو بیان دیا تھا، ٹاڈا کی خصوصی عدالت میں اس بیان کی کاپی کو کھولا گیا۔

اس وقت سنجے دت بھی ایک سو تیئس ملزمان کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے۔

سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی ) ممبئی بم دھماکوں کی تفتیش کر رہا ہے۔

سالم نے سی بی آئی تحویل میں جو بیان دیا تھا اس کے مطابق جنوری میں وہ ریاض صدیقی کے ساتھ گجرات گئے تھے اور وہاں سے ہتھیاروں کی کھیپ لائی گئی تھی۔

بیان کے مطابق انہیں یہ علم نہیں تھا کہ ان بند ڈبوں میں ہتھیار ہیں۔ انہیں لگا کہ چاندی سمگل کر کے لائی گئی ہے ہتھیاروں کی بابت انہیں سنجے دت کے گھر جا کر پتہ چلا۔

بیان کے ہی مطابق سنجے دت، بابا موسی چوان اور سمیر ہنگورا ہاتھ میں اے کے 56 رائفل اور ہتھ گولے لے کر دیکھ رہے تھے جس میں سے کچھ سنجے دت اور کچھ بابا چوان نے لئیے تھے۔

عدالت میں ابوسالم اور اس کے ساتھی ریاض صدیقی کے خلاف اضافی فرد جرم بھی داخل کی گئی۔اس معاملہ کی سماعت اب چودہ مارچ کو ہو گی۔

سنجے دت کے خلاف ابو سالم کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سرکاری وکیل اجول نکم نے کہا کہ پولس کے پاس سنجے دت کے خلاف کافی ثبوت پہلے بھی تھے اور اب اس بیان سے سنجے دت کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ مقدمہ برسوں سے چل رہا ہے اس لئے وہ عدالت میں اپیل داخل کریں گے کہ سالم اور ریاض کا مقدمہ علیحدہ چلایا جائے اور بقیہ تمام ملزمین کے بارے میں فیصلہ سنایا جائے ۔

بھارت کے قانون کے مطابق پولیس حراست میں دیئے گئے بیان کی عدالت میں کوئی اہمیت نہیں رہتی اور اکثر ملزمان اپنے اقبالیہ بیان سے عدالت میں یہ کہتے ہوئے انحراف کر جاتے ہیں کہ یہ بیان انہوں نے پولس کے دباؤ اور تشدد میں دیا تھا۔

سی بی آئی کو دیئے گئے اس بیان کے بارے میں سالم کے وکلاء اویس صدیقی اور اشوک سروگی نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ سالم سے بیان پولس دباؤ میں لیا گیا ہے۔