Sunday, 26 February, 2006, 11:38 GMT 16:38 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
امریکی صدر جارج بش یکم مارچ کی شام دلی پہنچيں گے۔ ان کی آمد کے لیے کئی طرح کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ایک طرف حکومت تمام انتظامات کو آخری شکل دے رہی ہے اور دوسری جانب بائيں بازو کی جماعتیں اور کئی مسلم تنظمیں ایک بڑی احتجاجی ریلی کے انعقاد کی تیاری کر رہی ہیں۔
صدر بش دلی کے موریہ شیرٹن ہوٹل میں قیام کريں گے۔ ہوٹل کے تین فلورز سکیورٹی کے پیش نظر سٹاف اور حفاظتی عملے کے لیے ریزرو کر دیے گئے ہیں۔ صدر کے ساتھ سکیورٹی افسروں اور ماہرین پر مشتمل کم از کم 700 افراد کی ایک ٹیم دلی میں ہوگی جن میں کئی پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔
کسی بھی طرح کی ایمرجنسی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتہائی جدید قسم کے ہیلی کاپٹر بھی دارالحکومت لائے جا رہے ہیں۔ ہوٹل میں صدر کے سویٹ کے اطراف کے کمروں کو صدارتی دفتر میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور 200 ٹیلی فون لائنس محفوظ کی گئی ہیں۔
یوں تو صدر بش کو ہندوستان میں کسی مخصوص تنظیم یا گروپ سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے لیکن حفاظتی انتظامات میں کسی قسم کی گنجائش نہیں چھوڑي گئی۔ صدر کی حفاظت پر ہندوستانی پولیس اور خفیہ سروس کے علاوہ تقریبا ڈھائی سو مسلح امریکی متعین ہوں گے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے برعکس ان مسلح محافظوں کو یہ سخت ہدایت رہتی ہے کہ ان کے ہتھیار دکھائی نہيں دینے چاہئیں۔
راؤنڈ ٹیبل تماشہ
سنیچر کے روز وزیراعظم منموہن سنگھ کی طلب کردہ کشمیر راؤنڈ ٹیبل کانفرنس ہند نواز جماعتوں کی کل جماعتی میٹنگ ثابت ہوئی۔ اس کانفرنس میں علیحدگی پسند تنظیموں کے کسی رہنما نے شرکت نہیں کی۔
![]() | |
| وزیراعظم منموہن سنگھ کی طلب کردہ کشمیر راؤنڈ ٹیبل کانفرنس ہند نواز جماعتوں کی کل جماعتی میٹنگ ثابت ہوئی |
ان قیدیوں کو چھوڑنے کے بارے میں چھ مہینے پہلے بھی ایک میٹنگ میں اعلان کیا گیا تھا۔ اور تقریباً تین برس قبل واجپئی حکومت کے دوران وزیر داخلہ ایل کے اڈوانی نے بھی اسی طرح کی ایک ملاقات کے بعد ان قیدیوں کو چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
ہندوستان کی مختلف جیلوں میں کشمیر کے کتنے قیدی ہیں یہ صرف ہندوستان کی حکومت ہی جانتی ہے۔ پچھلے ہفتے جموں و کشمیر بار ایسوسی ایشن نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کشمیری قیدیوں کے ساتھ جیلوں میں انتہائی غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔
بعض قیدیوں نے جنسی تذلیل کا الزام عائد کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان قیدیوں سے علیحدگی پسند رہنماؤں نے بھی کبھی ملاقات نہیں کی اور نہ ہی کوئی رابطہ رکھا ہے۔
اندھا قانون
گزشتہ ہفتے بیسٹ بیکری مقدمے میں ممبئی کی ایک عدالت نے نو ملزموں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ گجرات کی ایک ذیلی عدالت اور وہاں کی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں سبھی ملزموں کو بے قصور قرار دے کر مقدمہ خارج کر دیا تھا۔ ممبئی کی عدالت کے فیصلے کی ہر حلقے میں تعریف کی گئی ہے لیکن اس مقدے سے ایک روز قبل ایک معروف ماڈل جسیکا لعل کے قتل کے سبھی ملزمان بری کر دیے گئے۔
![]() | |
| بیسٹ بیکری مقدمے میں ممبئی کی ایک عدالت نے نو ملزموں کو عمر قید کی سزا سنائی |
جسیکا کا معاملہ ایک بڑی بحث کا سبب بن گیا ہے اور اب یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قانون میں ترمیم کی جائے اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے تاکہ گواہ منحرف نہ ہو سکیں اور اگر منحرف ہوں تو انہیں سزا مل سکے۔ ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں برسوں تک مقدمہ چلنے، گواہوں کے منحرف ہونے اور تفتیش کے فرسودہ طرز عمل کے سبب 90 فیصد سے زیادہ قاتل سزاؤں سے بچ جاتے ہيں۔
امر سنگھ کی سی ڈی
پچھلے دن ٹی وی چینلز اور اخباروں کو کسی نے ایک سی ڈی بھیجی۔ سی ڈی میں مبینہ طور پر ملائم سنگھ یادو کی پارٹی کے سینئر رہنما امر سنگھ کی فون پر ہونے والی بات چیت ریکارڈ کی گئی تھی۔
امر سنگھ نے اگر چہ اس سی ڈي میں ریکارڈ کی گئی بات چیت کو جعلی قرار دیا ہے لیکن انہوں نے بعض کانگریسی رہنماؤں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے انہيں بدنام کرنے کے لیے یہ سی ڈي تقسیم کرائی ہے۔
امر سنگھ اور ملائم سنگھ مرکزي حکومت پر یہ الزام لگاتے رہتے ہیں کہ ان کے فون ٹیپ کیے جار ہے ہیں۔ کانگریس اور ملائم سنگھ کے درمیان تعلقات میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے اور سی ڈی نے تلخی بڑھانے میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یوپی میں ایک سال بعد انتخابات ہو نے والے ہیں اور کانگریس اپنی توجہ ملک کی سب سے بڑي ریاست پر موکوز رکھے ہوئے ہے۔
مادھوری ڈکشت کی واپسی
بالی ووڈ کی معروف ادارکارہ مادھوری ڈکشت سات برس کے وقفے کے بعد ایک بار پھر فلمی دنیا میں نظر آئيں۔ سنیچر کی رات انہوں نے "فلم فئر" ایوارڈز کی تقریب میں رقص کیا۔
![]() | |
| مادھوری پھر واپس آ رہی ہیں |