Thursday, 23 February, 2006, 05:31 GMT 10:31 PST
نادیہ پرويز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان کی حکومت نے کہا ہے کہ برڈ فلو کی بیماری ابھی تک مرغیوں تک ہی محدود ہے اور اب تک کوئی انسان اس سے بیمار نہیں ہوا ہے۔
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جن پانچ لوگوں کی جانچ کی گئی ہے ان میں سے چار میں برڈ فلو نہیں ہے اور جو ایک شخص باقی بچا ہے اس کے نمونے کی جانچ کی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پچانوے لوگو ں میں برڈ فلو کے اندیشے کے پیش نظر انکے خون کے نمونے جانچ کے لیے بھیجے گئے تھے۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق پچانوے میں سے نوے افراد میں برڈ فلو نہیں پایا گیا۔ جن پانچ افراد کے نمونے مزید جانچ کے لیے روکے گئے تھے ان میں سے چار کے نتائج آنے کے بعد حکومت نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہندوستان میں ’ہیومن انفلوانذہ‘ یعنی انسانوں میں برڈ فلو اب تک نہیں پھیلا ہے۔
جن لوگوں کی جانچ کی گئی ہے ان میں معمول کے بخار اور نزلے جیسی علامات پائی گئی ہیں۔ آج شام تک آخری نمونے کی رپورٹ بھی آجانےکی توقع ہے۔
اس دوران احتیاط کے طور پر نواپور شہر کی سرحدیں سیل کر دی گئی ہیں اور مقامی باشندوں کا ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس علاقے میں جانے سے گریز کریں۔ نوارپور کے سکول اور کالج بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
برڈ فلو کے بارے میں حکومت نے بہت تیزی سے اقدامات کیے ہیں اور مختلف محکمے اس سلسلے میں مسلسل ضروری اطلاعات فراہم کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود چکن کے بازار میں مندی کا سلسلہ جاری ہے۔
ٹرانسپوٹرز کو کئی ارب کا نقصان ہو چکا ہے۔ بیشتر لوگ چکن کھانے سے گریز کر رہے ہیں اور کئی مقامات پر ہوٹلوں میں چکن کی ڈشیں روک دی گئي ہیں۔ لیکن انسانوں میں یہ بیماری نہ پھیلنے کی خبر کے بعد صورتحال میں رفتہ رفتہ بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل نوا پور ہسپتال کے اِنچارج افسر ڈاکٹر آر آر کٹی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہاں داخل بارہ مریضوں کو برڈ فلو کی دوا ٹیمیفلو دی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہسپتال میں داخل مریضوں میں تین مریض جن میں دو مرد اور ایک عورت شامل ہے، اس شخص کے رشتہ دار ہیں جس کی موت واقع ہو چکی ہے۔ ان افراد کو سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔