Tuesday, 21 February, 2006, 11:44 GMT 16:44 PST
شہاب فضل
لکھنؤ
سلمی ستارے کے کارچوبی کام والی اور سلیم شاہی جوتیوں کو بھول جایۓ۔ لکھنؤ کے اشفاق احمد چاندی کی جوتیاں اور سینڈل بنانے کے ماہر کارگر ہیں۔
نوابی دور کے سبک خوشنما اور سچے ہیروں سے مزین چاندی کی جوتیاں بنانے میں انہیں کمال حاصل ہے۔ نہ جانیں کتنی خواتین چاندی کے زیرپاء اپنے پاؤں کی زینت بناکر شہزادیاں بن چکی ہیں، تھوڑی ہی دیر کے لیے سہی۔۔۔۔
اگر انیسویں صدی کے اواخر کو پیش نظر رکھیں تو معلوم ہوگا کہ نوابین اودھ کا مرکز لکھنؤ مشاق سناروں اور کاریگروں کا مسکن تھا۔ لکھنؤ سے اچھے سنار اور کاریگر اور کہیں نہ مل سکتے تھے۔ اس زمانے کے اودھ میں امراء اور وزراء کے یہاں شادی کے مواقع پر چاندی کی خاص جوتیوں کا چلن شروع ہوا۔
اشفاق احمد پچھلے تیس برسوں سے اس پیشے کو اپنائے ہوئے ہیں۔ انکے بزرگ بھی سفاری کا کام کرتے تھے۔ اشفاق احمد نے بتایا کہ ’میں نے آنکھ کھولی تو یہی کام اپنے ارد گرد دیکھا اور ثانوی تعلیم کے بعد میں بھی اس میں لگ گیا‘۔
![]() | |
| اشفاق احمد پچھلے تیس برسوں سے اس پیشے کو اپنائے ہوئے ہیں۔ |
اشفاق نے بتایا کہ جوتی بنانے میں پانچ دن اور بغیر ہیل والی چپل بنانے میں تین روز لگتے ہیں۔ مختلف طرح کی جوتی اور چپل بنانے میں پاؤ بھر سے آٹھ سوگرام تک چاندی استعمال ہوتی ہے۔ اشفاق کا کہنا تھا کہ عام طور پر دو ہی ڈیزائن کی جوتیاں بنتی تھیں لیکن اب انہوں نے جو نیا ڈیزائن تیار کیا ہے وہ زیادہ مقبول ہورہا ہے۔
![]() | |
| اشفاق احمد اپنے گھر پر ہی کام کرتے ہیں |
ایک سوال کے جواب میں اشفاق نے بتایا کہ لکھنؤ ہی نہیں آس پاس کےسب قصبات اور کولکتہ سے بھی جوتی بنانے کے انکے پاس آڑدر آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’چاندی کی جوتیاں بنانے والے پہلے زیادہ کاریگر تھے۔ اب ہم اس چراغ کو جلا رہے ہیں ۔‘ ایک سرکاری ادارے للت کلا اکیڈمی نے اشفاق کے دیدہ زیب زیر پاء کو اپنی نمائش میں رکھنے میں دلچسپی دکھائی ہے اور اس سےاشفاق بہت خوش ہیں۔