Tuesday, 21 February, 2006, 15:02 GMT 20:02 PST
بھارتی حکومت نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں اور دراندازی میں کمی آئی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ شیوراج پٹیل نے بھارتی پارلیمان کو بتایا ’جموں و کشمیر میں سرحد پار سے دراندازی میں 54 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ عسکریت پسندوں کی ہلاکت میں 22 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کمی کی اصل وجوہات سرحدی باڑ کی موجودگی، بارڈر سکیورٹی فورس کی چوکسی اور کشمیر کے معاملے پر جاری امن مذاکرات ہیں۔
وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ سن 2005 میں پاک بھارت سرحد کے ذریعے داخل ہونے والے مبینہ دراندازوں کی تعداد کا اندازہ 231 لگایا گیا تھا جبکہ اگلے سال یعنی پندرہ فروری 2006 تک یہ تعداد گیارہ ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس اکتوبر میں زلزلے کے بعد سے دراندازی بالکل ختم ہوگئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت سکیورٹی فورس کی کارکردگی مزید موثر بنانے کے لیے انہیں جدید اسلحہ اور دیگر گیجٹس سے لیس کررہی ہے۔
وزیر داخلہ کا ساتھ ہی کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب بھی کشمیر میں سرگرم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ بنگلور کے سائنس انسٹیٹیوٹ پر حملے میں کشمیر میں سرگرم عسکریت پسند تنظیم کا ہاتھ تھا۔
بھارت ماضی میں یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ دراندازی میں کمی کے لیے پاکستان کوئی موثر کارروائی نہیں کررہا ہے تاہم پاکستان دراندازی کے الزامات کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ کشمیری علیحٰدگی پسند آزادی کی جدوجہد کے لیے کوشاں ہیں اور اس انتہا پسندی میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔